غزہ کی پٹی/اقوام متحدہ، 09 دسمبر (ہ س) غزہ کی پٹی میں جنگ کے 64ویں دن ہفتے کے روز اسرائیلی ٹینک، میزائل اور راکٹ گرج رہے ہیں۔ ادھر اسرائیلی جنگی طیاروں نے رات بھر لبنان میں حزب اللہ کے متعدد ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ دریں اثناء متحدہ عرب امارات کی غزہ کی پٹی میں تنازع کو روکنے کی کوششوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل اور حماس تنازعہ سے متعلق اپنی قرارداد کے مسودے کو ویٹو کردیا۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی جائے اور حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے تمام لوگوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کی جائے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور فلسطین کی جنگجو تنظیم حماس کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے رات بھر لبنان میں حزب اللہ کے متعدد ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے اہداف میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجو گروپ کے کئی آپریشنل مراکز شامل ہیں۔
اخبار کے مطابق اسرائیل کے ایک اعلیٰ دفاعی اہلکار نے کہا ہے کہ فوج کو جنوبی غزہ میں خان یونس شہر کو حماس سے آزاد کرانے میں تین سے چار ہفتے لگیں گے۔ اس کے بعد ہی حماس کے خلاف جنگ کا پہلا مرحلہ ختم ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کر کے کم از کم 1200 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ تقریباً 240 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
سی این این کے مطابق اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل نے جمعہ کو متحدہ عرب امارات کی قرارداد پر ووٹ دیا۔ کونسل کے 13 ارکان نے تجویز کے حق میں ووٹ دیا۔ برطانیہ نے ووٹنگ سے پرہیز کیا۔ قرارداد پر ووٹنگ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی جانب سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 99 کا استعمال کرتے ہوئے سلامتی کونسل سے اسرائیل اور حماس کے تنازعے میں مزید انسانی تنازعات اور انسانی تباہی سے بچنے کی اپیل کرنے کے چند دن بعد سامنے آئی ہے۔
اس ووٹنگ کے حوالے سے امریکی سفیر رابرٹ ووڈ کا کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ قرارداد میں حماس کے اسرائیل پر 7 اکتوبر کو ہونے والے بہیمانہ دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی زبان شامل کرنے سے کیوں انکار کیا گیا۔ اس کے باوجود امریکہ نے نیک نیتی کے ساتھ قرارداد کے مسودے میں حصہ لیا۔ ووڈ نے سلامتی کونسل کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ حماس کے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کی مذمت کرنے یا اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کرنے کے لیے ووٹ دینے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائی روکنے سے حماس کو غزہ پر حکمرانی جاری رکھنے اور اگلی جنگ کے بیج بونے کا موقع ملے گا۔
سی این این کے مطابق مصر، اردن، فلسطینی اتھارٹی، قطر، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ جمعہ کو واشنگٹن میں تھے تاکہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر جنگ بندی کی مخالفت ترک کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ اس کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔ وہ اقوام متحدہ میں ووٹنگ کے بعد ہی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے مل سکتے تھے۔ متحدہ عرب امارات کے نائب سفیر محمد ابوشہاب نے ووٹنگ کے بعد امریکی ویٹو پر مایوسی کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ میں برطانیہ کی مستقل نمائندہ باربرا ووڈورڈ نے کہا کہ ان کا ملک اس قرارداد پر ووٹ نہیں دے سکتا جس میں 7 اکتوبر کو بے گناہ اسرائیلی شہریوں کے خلاف حماس کے مظالم کی مذمت نہ کی گئی ہو۔
ہندوستھان سماچار
