اقوام متحدہ، 28 اکتوبر (ہ س)۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیل اور حماس کی جنگ بندی کی قرارداد پر ووٹنگ سے دور رہنے والے ہندوستان نے ایک بار پھر دہشت گردی پر اپنا نقطہ نظر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کی نائب مستقل نمائندہ یوجنا پٹیل نے ووٹنگ پر وضاحت دی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نقصان دہ ہے۔ دہشت گردی کی کوئی حد نہیں ہوتی ہے۔ اس کی نہ کوئی قومیت ہے نہ نسل۔ عالمی برادری دہشت گردی کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرنے والوں کو نظر انداز نہ کرے۔ آئیے ،ہم سب اپنے اختلافات کو دور رکھ کر متحد ہو جائیں۔ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا رویہ اپنایا جائے۔ میڈیا رپورٹس میں ہندوستان کی دہشت گردی پر اس نظریے کو ترجیح دی گئی ہے۔
بھارت کی نائب مستقل نمائندہ یوجنا پٹیل نے کہا کہ اختلافات اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس باوقار ادارے کو تشدد کا سہارا لینے کے واقعات پر گہری تشویش ہونی چاہیے۔ بڑے پیمانے پر، شدید تشدد سے بنیادی انسانی اقدار کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کا استعمال بہت زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ یوجنا پٹیل نے اسرائیل میں 7 اکتوبر کو ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنرل اسمبلی میں ہونے والی اس بحث سے دہشت گردی اور تشدد کے خلاف واضح پیغام جائے گا۔ اس سے سفارت کاری اور بات چیت کے امکانات وسیع ہوں گے۔ اس سے اس وقت ہمیں درپیش انسانی بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ بھارت کو اس تنازعے میں شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
