واشنگٹن، 08 جنوری (ہ س)۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے کئی دنوں سے اسپتال میں داخل ہونے کے بارے میں معلومات صدر جو بائیڈن سےچھپانے پر پینٹاگون کوشدید تنقید کا سامنا ہے۔ تاہم لائیڈ نے اس پر معافی مانگ کر اس تنازعہ کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اتوار کو بھی اسپتال میں داخل رہے۔ وہ جسمانی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ پینٹاگون کئی دنوں تک ان کی آپشنل سرجری کی ضرورت کو عام کرنے میں ناکام رہا۔ پینٹاگون نے تنقید سے بچنے کے لیے انہیں انتہائی طبی نگہداشت میں بھیج دیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق آسٹن یکم جنوری کو اسپتال گیے تھے۔ اس کے بعد سے وہ پینٹاگون میں نہیں ہیں۔ محکمہ دفاع کے ترجمان پیٹرک رائڈر نے اتوار کی دو پہر کو ایک اپ ڈیٹ میں کہا کہ ”وہ ابھی بھی اسپتال میں بھرتی ہیں۔اس کی کوئی تاریخ نہیں ہے کہ انہیں وہاں سے کب چھٹی دی جائے گی ، لیکن وہ صحت یاب ہو رہے ہیں اور اچھی حالت میں ہیں۔“
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بائیڈن انتظامیہ کے سینئر افسران، کانگریس کے نمائندوں اور خود صدر پر دباو بڑھ رہا ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ لائیڈ آسٹن کے اسپتال میں داخل ہونے کی خبر کو کچھ دنوں تک کیوں چھپایا گیا۔ سابق نائب صدر مائیک پینس نے آسٹن کے اسپتال میں داخل ہونے کا انکشاف کرنے میں تاخیر کو فرض سے غفلت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی شہریوں کو وزیر دفاع کی حیثیت کے بارے میں جاننے کا حق ہے۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ وہ خفیہ طریقے سے اسپتال میں داخل ہونے کی ’مکمل ذمہ داری‘ قبول کرتے ہیں۔ اس کے لیے ملک سے معافی بھی مانگتے ہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ 70 سالہ لائیڈ آسٹن کو نئے سال کے پہلے دن والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر میں داخل کرایا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اس معاملے کو پانچ دن تک چھپایا گیا۔
ہندوستھان سماچار
