انقرہ،18دسمبر(ہ س)۔
ترکیہ کے وزیرخارجہ حاقان فیدان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرے تاکہ غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی حملے رک سکیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ نے یہ بات اپنے امریکی ہم منصب انٹونی بلینکن سے کہی ہے۔ترکیہ دہائیوں پرانے تنازعے کے دو ریاستی حل کا حامی رہا ہے اور اسرائیل کے شدید ناقدین میں شامل ہوتے ہوئے مسلسل مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ترکیہ اسرائیل کےحامی مغربی ملکوں کی مذمت کرتا ہے اور اسرائیل کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے کٹہرے میں لانا چاہتا ہے۔
امریکہ اسرائیل کا قریب ترین ساتھی ہے اور اسرائیل حماس جنگ میں اس کے باوجود اسرائیل کے حق دفاع کا حامی ہے کہ اسرائیل نے پورے غزہ کو بمباری کر کے تباہ کر دیا ہے۔ 20 لاکھ کے قریب فلسطینی بے گھر اور 19 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے، ان شہید کیے گئے افراد میں زیادہ تر فلسطینی عورتیں اور بچے ہیں۔ذرائع کے مطابق ترک وزیر خارجہ نے بلینکن کو غزہ اور مغربی کنارے کی صورت حال کے بارے میں بتایا۔ اس سے قبل جمعرات کے روز صدر طیب ایردوآن نے صدر جوبائیڈن سے کہا تھا تھا غزہ میں جنگ بندی کرانا امریکہ کی تاریخی ذمہ داری ہے۔اب ترک وزیر خارجہ نے بلینکن پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جائے اور اس سے پہلے مکمل جنگ بندی کی جائے۔ تاکہ پائیدار امن کا رستہ کھلے اور دو ریاستی حل نکل سکے۔ترکیہ غزہ میں حالیہ تباہی کے بعد اسرائیل کو مسلسل ایک دہشت گرد ریاست قرار دے رہا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ترکیہ نے اپنے تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے ترکیہ کے اندر اس کی اپوزیشن جماعتیں ایردوآن حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔تاہم ترکیہ کے وزیر تجارت عمر بولات نے جمعہ کے روز بتایا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تجارت 48 فیصد نیچے آگئی ہے۔ جبکہ باقی تجارت کا بڑا حصہ ان بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو ترکیہ سے کام کرتی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
