تل ابیب،06جنوری(ہ س)۔
بنجامن نیتن یاہو کی حکومت کے اندر 7 اکتوبر سے بڑھتے ہوئے تنازعات کے درمیان اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے جمعہ کو حکومتی وزراءکے حوالے سے کہا ہے کہ جنگی کابینہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گی۔یہ بیانات جمعرات کی شام کو ہونے والے حکومتی اجلاس کے بعد سامنے آئے، جس میں اس تحقیقات کی وجہ سے ایک طوفانی بحث دیکھنے میں آئی جب اسرائیلی فوج نے حماس کے گذشتہ سات اکتوبر میں ہونے والے حملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کی میٹنگ میں چیخ و پکار، افراتفری اور فوج اور چیف آف اسٹاف پر تنقید دیکھنے میں آئی، جس کے بعد وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو اجلاس ختم کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے ان واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم کا تقرر کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے 7 اکتوبر کو حماس کے حیرت انگیز حملے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن ’کان‘نے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے حوالے سے کہا کہ درحقیقت میٹنگ کے آخری پانچ منٹوں میں اس معاملے پر طوفانی بحث ہوئی، لیکن سب سے زیادہ آوازیں وزراءکے درمیان تھیں، تاہم آرمی چیف پر بھی تنقید کی گئی۔ایک وزیر نے انکشاف کیا وزراءمیں بحث توہین آمیز تھی۔ انہوں نے فوج پر حملہ کیا۔ دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ سینیر ممبران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔خیال رہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں جنگی کونسل پر سخت تنقید سامنے آئی تھی۔ بعض وزراءنے جنگی کونسل میں شامل عہدیداروں کو غزہ میں حماس کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
ہندوستھان سماچار
