
اسرائیلی فوج غزہ کے الشفاء اسپتال کے تہہ خانے میں داخل ہوئی، حماس کے جنگجووں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے دیا انتباہ
تل ابیب/یروشلم، 15 نومبر (ہ س)۔ غزہ کی پٹی میں جنگ کے 40ویں دن کی صبح بدھ کو اسرائیلی افواج بڑے اسپتال الشفا میں داخل ہوئیں۔ فوجی تہہ خانے میں داخل ہوگئے۔ یہ قدم حماس کے کمانڈروں کے یہاں چھپنے کے بارے میں مضبوط انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے حماس کے جنگجووں کو خاموشی سے ہتھیار ڈالنے کا انتباہ دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ڈی ایف نے اس اسپتال کے تہہ خانے کی تصویر بھی جاری کی ہے۔ فوجیوں نے تہہ خانے میں پوزیشن سنبھال لی ہے۔ جہاں بھی حرکت محسوس ہوتی ہے وہاں گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ فوجیوں نے بیک وقت پورے اسپتال پر دھاوا بول دیا۔ کسی کو بھاگنے کا موقع نہیں ملا جس کی وجہ سے مریضوں کے درمیان رہنے والے حماس کمانڈر کو گراونڈ فلور اور ٹنل کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس اسپتال میں مریضوں کے علاوہ ہزاروں مہاجرین بھی موجود ہیں۔
آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ حماس کے خلاف یہ مہم کسی بھی صورت میں نہیں رکے گی۔ سیکورٹی فورسز بھی اسپتال کی اس جگہ پہنچ گئی ہیں، جہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ آئی ڈی ایف نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی اسپتال کو حماس کی پناہ گاہ نہیں بننے دے گا۔
ایک دیگر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے یہ قدم امریکہ کی خفیہ اطلاع پر اٹھایا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ حماس غزہ میں الشفا سمیت دیگر اسپتالوں کو کمانڈ سینٹرز اور گولہ بارود کے ڈپو کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
