ریاض،20نومبر(ہ س)۔
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی اور مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ مغربی کنارے میں اس کی صریح خلاف ورزیوں اور جرائم پر جواب طلبی کرے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب کہ مملکت کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان عرب وزرائ کے ایک وفد کی قیادت کر رہے تھے جس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کئی مستقل ارکان کے دارالحکومت کا دورہ شروع کیا۔عرب لیگ کے وزرائے خارجہ – جن میں اردن، فلسطینی اور مصری وزرائ شامل ہیں – اور اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائ اس وقت غزہ کی جاری صورتِ حال پر بات چیت کے لیے بیجنگ میں ہیں۔
اس دورے کا مقصد محصور انکلیو میں فوری جنگ بندی کے لیے زور دینا ہے جس نے 45 دن تک مسلسل اسرائیلی بمباری برداست کی ہے۔ علاقے کی حکومت کے مطابق سات اکتوبر سے اسرائیل کے فضائی حملوں میں کم از کم 13,000 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 5,500 بچے بھی شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ نو آبادیاتی قابض حکام کے جرائم کو روکنے کے اقدامات کیے جائیں اور غزہ، یروشلم اور مغربی کنارے میں ان کے جرائم پر جواب طلبی کی جائے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس دورے کا مقصد فوری ریلیف کی گذرگاہوں کو محفوظ بنانا اور ایک سنجیدہ سیاسی عمل شروع کرنا ہے۔
ہندوستھان سماچار
