واشنگٹن،13دسمبر(ہ س)۔
جنگ میں اسرائیل کے سب سے بڑے اور کٹر حامی امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم کو خبردار کیا ہے کہ انہیں اپنی انتہائی سخت گیر حکومت میں تبدیلی لانا ہو گی کیونکہ اب اسرائیل اپنی حمایت کھونا شروع کر رہا ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار غزہ پر اسرائیلی بمباری کے تیسرے مہینے کا دوسرا ہفتہ شروع ہونے پر کیا ہے۔جوبائیڈن جن کی قیادت میں امریکہ اسرائیل حماس جنگ میں اسرائیل کا مکمل ساتھ دے رہا ہے اور اس نے اسرائیل کو کسی بھی محاذ پر کمزور نہیں ہونے دیا ہے اب اپنے اگلے صدارتی انتخاب کے لیے مہم میں قدم رکھ رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ پارٹی کی فنڈریزنگ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اسرائیل کی غزہ پر بمباری کے نتیجے میں اب تک لگ بھگ 18000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد فلسطینی بچوں اور عورتوں کی ہے۔ امریکی حمایت سے لڑی جانے والی طویل تر اسرائیلی جنگ کے دوران غزہ کے بیس لاکھ کے قریب فلسطینی شہری بے گھر ہو چکے ہیں اور لوگ پانی پانی کی بوند بوند کے لیے ترس رہے ہیں۔ بھوکوں مرنے کا خطرہ بھی سامنے ہے۔اس کے باوجود امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد کے خلاف ویٹو کر کے جنگ جاری رکھنے کے لیے اسرائیل کی حمایت کو برقرار رکھا ہے۔
اس لیے منگل کے روز انہوں نے خطاب میں کہا ‘ اسرائیلی وزیر اعظم یاہو کو اپنی سخت گیر حکومت میں تبدیلی لانا ہوگی۔ تاہم اس ے سے یہ واضح نہیں ہوا کہ ان کی مراد یاہو کو محض اتحادی یا وزیر تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ہے یا چاہتے ہیں کہ اسرائیل میں جنگ کے فوری بعد نئے الیکشن کروا لیے جائیں۔صدر جوبائیڈن نے کہا اب اسرائیل یہ نہیں کہہ سکتا کہ مستقبل میں فلسطینی ریاست نہیں ہے، اسرائیلیوں پر دباو¿ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا ‘ وہ اب حمایت کھونا شروع کر رہے ہیں۔ جیسا کہ عالمی برادری بمابری کے خلاف انتباہ کر رہی ہے۔صدر جوبائیڈن نے یہ غیر معمولی اور باریک بیان اسیے موقع پر دیا ہے جب ان کے مشیر سلامتی امور جیک سلیوان ایک بار پھر اسرائیل کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ تاکہ اسرائیلی جنگی کابینہ کے ساتھ مستقبل کے جنگی نقشے پر بات کر سکیں۔
خیال رہے اب کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ملک جنگ بندی کی بات کرتے ہیں۔ ان کا اس سلسلے میں ایک مشترکہ بیان بھی سامنے آیا ہے۔ اس تناظر میں جوبائیڈن نے کہا ہمارے پاس ایک موقع ہے کہ ہم خطے کو متحد کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ ابھی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ یاہو یہ سمجھیں کہ انہوں نے جو حاصل کر لیا ہے اسے مستحکم کریں۔ اب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی فلسطینی ریاست نہیں، اب یہ ایک مشکل ہو گا۔
ہندوستھان سماچار
