وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو نے قومی اسمبلی کے سامنے تیسری مدت کے لیے حلف اٹھایا، جس پر اپوزیشن نے انتخابی دھاندلی کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ اصل جیت ان کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز کی ہوئی ہے۔ انتخابات اور اس کے نتائج نے وینیزویلا میں سیاسی بحران اور بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔
BulletsIn
- نکولس مادورو نے حکمراں جماعت کے زیر کنٹرول قومی اسمبلی کے سامنے تیسری مدت کے لیے حلف اٹھایا۔
- اپوزیشن نے مادورو پر انتخابی دھاندلی سے جیتنے کا الزام عائد کیا ہے۔
- حزب اختلاف کے صدارتی امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز کو امریکہ سمیت کئی ممالک نے منتخب صدر تسلیم کیا۔
- حلف برداری سے ایک دن قبل اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لینے کے الزامات سامنے آئے، جن کی حکومت نے تردید کی۔
- 28 جولائی 2024 کو ووٹنگ ختم ہونے کے چند گھنٹے بعد مادورو کو فاتح قرار دیا گیا، لیکن ووٹوں کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔
- اپوزیشن کے مطابق، 80 فیصد الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گونزالیز کو مادورو کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ووٹ ملے۔
- مادورو حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔
- 2011 میں مادورو کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی اور تیل پر انحصار نے ملک کو اقتصادی بحران میں ڈال دیا۔
- ملک میں مہنگائی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور اشیائے ضروریہ کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔
- 2014 اور 2017 کے دوران مادورو حکومت کے خلاف بڑے مظاہرے ہوئے، جن پر حکومت نے سختی سے قابو پایا، اور ان میں کئی مظاہرین ہلاک ہوئے۔
