امریکہ میں بھارتی طالب علم بدر خان سوری کی ملک بدری کے معاملے پر ایک اہم عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ ورجینیا کے الیگزینڈریا میں ڈسٹرکٹ جج پیٹریشیا گیلس نے ایک عبوری حکم جاری کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ سوری کو امریکہ سے ڈی پورٹ نہ کیا جائے جب تک عدالت کوئی نیا حکم جاری نہ کرے۔ یہ معاملہ امیگریشن پالیسی، خارجہ پالیسی، اور آزادی اظہار کے تناظر میں خاصا اہم ہے۔
BulletsIn
-
ورجینیا کے ڈسٹرکٹ جج پیٹریشیا گیلس نے بھارتی طالب علم بدر خان سوری کی ملک بدری پر عارضی پابندی عائد کر دی۔
-
جج گیلس نے یہ فیصلہ سوری کی درخواست اور ان کی اہلیہ مفیز صالح کے حلف نامے کی بنیاد پر دیا۔
-
بدر خان سوری، جو جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں محقق ہیں، کو امریکی امیگریشن حکام نے ان کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا۔
-
سوری پر الزام ہے کہ وہ امریکہ کی اسرائیلی خارجہ پالیسی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
-
امریکی حکومت نے ان کا ویزا خارجہ پالیسی وجوہات کی بنا پر منسوخ کر دیا ہے۔
-
سوری کے وکیل حسن احمد نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ انہیں ان کی اہلیہ کے فلسطینی پس منظر کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
-
سوری کی اہلیہ مفیز صالح ایک امریکی شہری ہیں اور ان پر بعض ویب سائٹس میں حماس سے روابط کا الزام لگایا گیا ہے۔
-
اطلاعات کے مطابق، مفیز صالح کے والد احمد یوسف حماس کی اعلیٰ قیادت کے سینئر مشیر رہ چکے ہیں۔
-
امریکی حکومت کو شبہ ہے کہ سوری اور ان کی اہلیہ اسرائیل کے خلاف سرگرم ہیں، حالانکہ صالح نے حلفیہ بیان میں حماس سے کسی بھی تعلق کی تردید کی ہے۔
-
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ترجمان نے تصدیق کی کہ سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے سوری کا ویزا خارجہ پالیسی کی بنیاد پر منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا۔
