امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بین الاقوامی آبی گزرگاہوں، خاص طور پر نہر سویز اور پاناما کینال کے حوالے سے متنازعہ بیانات دیے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی اور کمرشل جہازوں کو ان نہروں سے آزادانہ اور بلا معاوضہ گزرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ موقف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر واضح کیا اور اس سلسلے میں فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ان کے اس بیان سے خطے میں ایک نئی جیو پولیٹیکل کشیدگی پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔
BulletsIn
-
ڈونلڈ ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ امریکی جہازوں کو سویز کینال اور پاناما کینال سے مفت اور آزادانہ گزرنے کی اجازت دی جائے۔
-
ٹرمپ نے سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو فوری طور پر اس معاملے کو اٹھانے کی ہدایت دی۔
-
انہوں نے کہا کہ یہ نہریں ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتیں۔
-
ٹرمپ نے اپنے بیان میں امریکی فوجی اور تجارتی جہازوں دونوں کا ذکر کیا۔
-
سابق صدر نے ایک بار پھر پاناما کینال پر امریکی کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
-
انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اقتصادی یا فوجی طاقت کے استعمال کو خارج از امکان نہیں سمجھتے۔
-
یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے اقتدار میں واپس آنے کی کوششوں کے دوران دیا گیا۔
-
پاناما کینال بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کے درمیان ایک اہم تجارتی راستہ ہے۔
-
امریکہ نے 20ویں صدی کے اوائل میں پاناما کینال تعمیر کی تھی، لیکن 1999 میں اس کا کنٹرول پاناما کو سونپ دیا گیا۔
-
امریکی کنٹینر ٹریفک کا تقریباً 40 فیصد سالانہ پاناما کینال کے راستے سے گزرتا ہے۔
