خبر رساں ادارے “رائٹرز” کی رپورٹ کے مطابق، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک سخت امیگریشن پالیسی کے تحت ایسے تارکین وطن پر جرمانے عائد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جنہیں ملک بدری کا نوٹس ملنے کے باوجود وہ امریکہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم افراد کو خودبخود ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا۔ یہ پالیسی 1996ء کے ایک قانون کی بنیاد پر تیار کی گئی تھی، جسے ٹرمپ انتظامیہ نے 2018 میں لاگو کیا۔ اس منصوبے کے تحت روزانہ کی بنیاد پر بھاری جرمانے، جائیداد کی ضبطی، اور طویل مدتی پابندیاں شامل ہیں۔
BulletsIn
-
ٹرمپ انتظامیہ نے ان افراد پر یومیہ 998 ڈالر جرمانہ عائد کرنے کا منصوبہ بنایا جو ملک بدری کے باوجود امریکہ نہیں چھوڑتے۔
-
اگر جرمانہ ادا نہیں کیا جاتا تو ایسے تارکین وطن کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے۔
-
یہ پالیسی 1996ء کے ایک امیگریشن قانون کی بنیاد پر بنائی گئی تھی، جسے پہلی بار 2018 میں نافذ کیا گیا۔
-
ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق، ان پابندیوں کو پانچ سال تک لاگو کرنے کا ارادہ کیا گیا تھا۔
-
جرمانے کی رقم مجموعی طور پر دس لاکھ ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
-
ٹرمپ انتظامیہ نے 14 لاکھ سے زائد ایسے تارکین وطن کو نشانہ بنایا جنہیں امیگریشن عدالتوں نے ملک بدر کرنے کا حکم دیا تھا۔
-
رائٹرز کی رپورٹ میں سرکاری ای میلز کے حوالے سے انکشاف کیا گیا کہ جائیداد ضبطی کا بھی غور کیا گیا تھا۔
-
ہوم لینڈ سکیورٹی کی ترجمان کے مطابق، تارکین وطن کو ’سی پی پی ہوم‘ موبائل ایپ کے ذریعے ملک چھوڑنے کا عمل مکمل کرنا چاہیے۔
-
ناکامی کی صورت میں ان افراد کو بھاری قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
-
ٹرمپ نے اپنی صدارت کے آغاز پر ہی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات اور کریک ڈاؤن شروع کیا تھا۔
