داووس (سوئٹزرلینڈ)، 15 جنوری (ہ س)۔ ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کا پانچ روزہ سالانہ 54 واں اجلاس آج یہاں شروع ہوگا۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کو موسمیاتی تبدیلی، تنازعات اور فیک نیوز جیسے کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔ اجلاس میں دنیا بھر سے 2800 سے زائد مندوبین شرکت کریں گے۔ ان میں 60 سے زائد ممالک اور حکومتوں کے سربراہان شامل ہیں۔
سوئس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے اس اجلاس میں سیاست، کاروبار اور معاشرے سے تعلق رکھنے والے نمایاں مہمان یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں جنگ، ممکنہ نئی وبائی امراض، موسمیاتی تبدیلی اور سائبر حملوں جیسے چیلنجز پر بات کریں گے۔ فورم کا خصوصی اجلاس یونانی پہاڑی تفریحی مقام میں ہوگا۔ غزہ اور یوکرین میں جنگوں کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات اس اجلاس کے ایجنڈے میں سرفہرست ہیں۔ سب سے اہم مہمان یوکرین کے صدر زیلینسکی ہیں۔ ان کے منگل کو یہاں پہنچنے کا امکان ہے۔ اس اجلاس میں روس کے اتحادی چین کے وزیر اعظم لی کیانگ بھی شرکت کریں گے۔ مغرب کو امید ہے کہ وہ بیجنگ کے ذریعے ماسکو پر اثر انداز ہونے میں کامیاب ہو جائے گا۔
اس میٹنگ میں ہندوستان کی نمائندگی تین مرکزی وزرا اسمرتی ایرانی، اشونی ویشنو اور ہردیپ سنگھ پوری کریں گے۔ تین ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور 100 سے زیادہ سی ای او بھی ان کے ساتھ موجود ہوں گے۔جلاس کے باقاعدہ آغاز سے ایک دن قبل یوکرین کے لیے امن منصوبے پر بات چیت کرنے کے لئے داووس نے پہلی بار 90 ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی میٹنگ کی میزبانی کی۔
سوئس ٹائمز کے مطابق ایک آن لائن پریس کانفرنس میں ورلڈ اکنامک فورم کے صدر بارج برینڈے نے کہا کہ یہ اجلاس انتہائی پیچیدہ اور سب سے زیادہ چیلنجنگ جیو پولیٹیکل اور جیو- اکنامک منظر نامے میں ہو رہا ہے۔ اس دوران برانڈے نے ہندوستان کو آٹھ فیصد سے زیادہ جی ڈی پی کے ساتھ ایک بڑا ملک قرار دیا۔ اس سال کی میٹنگ کا تھیم ہے- اعتماد کی تعمیر نو(ری-بلڈنگ ٹرسٹ)۔
ہندوستھان سماچار
