احمد بدر الدین حسون، جو 2005 سے 2021 تک شام کے مفتی اعظم رہے، کو حال ہی میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہ بشار الاسد حکومت کے قریبی حامی سمجھے جاتے تھے اور ان پر خانہ جنگی کے دوران حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کا الزام ہے۔ حسون کو دمشق ہوائی اڈے پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ملک چھوڑنے والے تھے۔ ان کی گرفتاری کی خبریں اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
BulletsIn
-
سابق مفتی اعظم احمد بدر الدین حسون کو شام میں گرفتار کر لیا گیا۔
-
انہیں دمشق ہوائی اڈے پر اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ بیرون ملک جانے والے تھے۔
-
گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر وائرل ہو گئی ہیں۔
-
ذرائع کے مطابق کل جمعے کے روز نئے مفتی اعظم کا تقرر متوقع ہے۔
-
حسون کو 17 فروری کو حلب میں دیکھا گیا تھا، جہاں مشتعل مظاہرین نے ان کے گھر پر دھاوا بولا تھا۔
-
مظاہرین حسون کے احتساب کا مطالبہ کر رہے تھے۔
-
حسون کا کہنا ہے کہ وہ بشار الاسد کے دور میں تین بار گرفتار ہو چکے ہیں۔
-
انہوں نے جامعہ الازہر سے فقہ شافعی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔
-
حسون بشار الاسد کے حامی رہے اور ان کی پالیسیوں کا دفاع کرتے رہے۔
-
انہوں نے شام میں خانہ جنگی کے دوران بشار حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی حمایت کی تھی۔
