تل ابیب، 21 جنوری (ہ س)۔ غزہ میں فلسطینی جنگجو تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کو تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے دنیا کے بڑے ممالک دو دھڑوں میں بٹ گئے ہیں۔ اس معرکہ آرائی کے درمیان اسرائیلی فوج حماس کی ایک اہم سرنگ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ یہ وہی سرنگ ہے جہاں گزشتہ سال 7 اکتوبر کو حماس کے جنگجووں نے کچھ اسرائیلیوں کو یرغمال بنا کر رکھا تھا۔
معروف اخبار ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے 20 جنوری کو اس سرنگ کی متعدد تصاویر جاری کیں۔ آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ سرنگ کی لمبائی تقریباً 830 میٹر (آدھا میل) ہے۔ اسے زمین سے 20 میٹر (66 فٹ) نیچے کھودا گیا تھا۔ اس میں ایک مرکزی جگہ کے ساتھ پانچ ممنوعہ کمرے بھی تھے۔ یہاں بیس یرغمالیوں کورکھا گیا تھا۔ سرنگ کے دروازے پر کئی بندوق برداروں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اب کوئی یرغمال نہیں ہے۔ سرنگ کا داخلی راستہ حماس کے ایک جنگجو کے گھر کے اندر سے تھا۔
آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ اس سرنگ میں یرغمالیوں کو ’’سخت اور غیر انسانی حالات‘‘ میں رکھا گیا تھا۔ سرنگ سے ملنے والی اشیاء میں پانچ سالہ ایمیلیا الونی کی ڈرائنگ بھی شامل ہیں۔ نومبر میں عارضی جنگ بندی کے دوران اسے ترک کر دیا گیا تھا۔ آئی ڈی ایف کے مطابق 18 جنوری کو خان یونس میں سرگرم حماس کے تقریباً 40 جنگجو مارے گئے۔ فوجیوں نے ایک جنگجو کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر دس گرینیڈ، اے کے 47 رائفلیں، فوجی سازوسامان اور نقشے برآمد کیے ہیں۔
آئی ڈی ایف کے فوجیوں نے شمالی غزہ میں دو مسلح جنگجووں کو ہلاک کر دیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری نے کہا کہ فوجی سرنگ میں داخل ہوئے اور وہاں موجود جنگجووں کو ہلاک کر دیا۔ ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق آئی ڈی ایف نے پہلے حملوں کے جواب میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ادھر عراق میں امریکی فضائی اڈے پر متعدد بیلسٹک میزائل اور راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
