برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج حماس کو مکمل شکست دینے اور غزہ کی پٹی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی جامہ پہن لیتا ہے، تو یہ اسرائیل کے طویل مدتی قبضے کی راہ ہموار کرے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تجویز ابھی اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ سے منظور نہیں ہوئی، لیکن اسے دائیں بازو کے شدت پسند وزراء کی غیر سرکاری حمایت حاصل ہے۔
BulletsIn
-
اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی پر دوبارہ قبضہ کرنے اور حماس کو شکست دینے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔
-
یہ منصوبہ اسرائیلی فوج کے نئے سربراہ کی تجویز ہے، جسے دائیں بازو کے شدت پسند وزراء کی حمایت حاصل ہے۔
-
رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ واپسی سے اسرائیل کو یہ قدم اٹھانے کا موقع ملا ہے۔
-
جو بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کو غزہ پر دوبارہ قبضہ نہ کرنے پر زور دیا تھا۔
-
منصوبے کے تحت، اسرائیل غزہ میں جنگجو یونٹوں کو تعینات کر کے 22 لاکھ فلسطینیوں کو بحیرہ روم کے کنارے ایک چھوٹے سے علاقے میں محدود کر دے گا۔
-
اسرائیل 20 سال بعد دوبارہ غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھالے گا، جہاں 1967 سے 2005 تک اس کا قبضہ تھا۔
-
اسرائیلی فوج غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے تاکہ حماس کو فائدہ نہ پہنچے۔
-
اقوام متحدہ نے اسرائیلی حملے کے بعد اپنے ایک تہائی بین الاقوامی اہلکاروں کو غزہ سے واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
-
نیتن یاہو نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد حماس کو ختم کرنے کا عہد کیا تھا، جس میں 1200 اسرائیلی ہلاک اور 250 یرغمال بنائے گئے تھے۔
-
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 50 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور غزہ میں شدید انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
