اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی میں جاری کارروائیوں کے حوالے سے خبریں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اسرائیل اگلے سال کے آخر تک اس علاقے سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ غزہ کو شمال، جنوب اور وسطی حصوں میں تقسیم کر کے اسرائیلی فوج نے نہ صرف بنیادی ڈھانچہ تباہ کیا بلکہ مستقل بنیادوں پر اپنی موجودگی کے آثار بھی چھوڑے ہیں۔ اس مضمون میں غزہ میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
BulletsIn
- غزہ کی تقسیم: اسرائیلی فوج نے غزہ کو شمال، جنوب اور مرکز میں الگ الگ حصوں میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ علاقے کی جغرافیائی یکجہتی ختم کی جا سکے۔
- نٹساریم کوریڈور: شمال اور جنوب کے درمیان نٹساریم کوریڈور بنایا گیا ہے جو فوجی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
- بنیادی ڈھانچے کی تباہی: اسرائیلی فوج نے عمارتوں، پانی، بجلی اور سیوریج نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
- فوجی سہولیات کی تعمیر: غزہ کے مختلف حصوں میں مستقل فوجی سہولیات جیسے باورچی خانے، عبادت گاہیں، اور محفوظ کنٹینرز تعمیر کیے گئے ہیں۔
- آبادی کی نقل مکانی: شمالی غزہ کو آبادی سے خالی کرایا گیا اور فلسطینیوں کو جنوبی علاقوں میں منتقل ہونے پر مجبور کیا گیا۔
- فوجی مقامات کا قیام: فوجی مقامات کو طویل مدتی موجودگی کے لیے بنایا گیا ہے، جنہیں ایک یا دو ماہ تک محدود نہیں رکھا گیا۔
- سینئر کمانڈرز کی تصدیق: اسرائیلی فوج کے سینئر عہدیداروں نے عمارتوں کی مسماری اور فوجی پوزیشنز بنانے کی منصوبہ بندی کی تصدیق کی ہے۔
- فوجیوں کی آزادانہ نقل و حرکت: نٹساریم کوریڈور کے قریب تعینات فوجی بغیر ہیلمٹ اور حفاظتی واسکٹ کے گھومتے اور کھیلتے ہیں، جو ان کی خود اعتمادی کو ظاہر کرتا ہے۔
- سیاسی تنازعات: اسرائیلی سیاسی رہنماؤں نے فوج کی منصوبہ بندی پر تنقید کی اور اسے جرنیلوں کی ذاتی حکمت عملی قرار دیا۔
- منظم مہم: غزہ کی عمارتوں کو منظم طریقے سے مسمار کر کے ایسے حالات پیدا کیے گئے ہیں جن میں وہاں رہنا یا چھپنا ناممکن ہو۔
