شام میں اسد خاندان کی پانچ دہائیوں پر محیط حکمرانی کے خاتمے کے باوجود ملک میں امن و امان کی صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے۔ اسلامی شدت پسند گروپ ہیئۃ تحریر الشام کی جانب سے صدر بشار الاسد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنے کے بعد اب ان کا سامنا لبنان کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجوؤں سے ہے۔ حالیہ جھڑپوں اور گرفتاریوں نے شام میں جاری تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
BulletsIn
- شام میں اسد خاندان کی حکمرانی ختم ہونے کے باوجود ملک میں بڑی تبدیلیاں نظر نہیں آ رہیں۔
- ہیئۃ تحریر الشام نے بشار الاسد کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کیا۔
- لبنان کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجو شام میں دراندازی کر چکے ہیں۔
- مغربی شام کے حمص علاقے میں حزب اللہ اور محکمہ ملٹری آپریشنز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
- جھڑپوں میں محکمہ آپریشنز نے حزب اللہ کے 10 سے زائد ارکان کو گرفتار کیا۔
- ایران نواز القدس بریگیڈ کے ارکان بھی جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔
- القدس بریگیڈ کے چار ارکان کو دیر الزور کے الجفرہ علاقے میں گرفتار کیا گیا۔
- محکمہ آپریشنز نے ایران کے وفادار 47ویں رجمنٹ کے پانچ سابق ارکان کو بھی گرفتار کیا۔
- دو روز قبل نامعلوم مسلح افراد نے مشرقی پالمیرا کے قریب امریکی حمایت یافتہ فورسز پر حملہ کیا۔
- جھڑپوں کے دوران فریقین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا
