لندن، 16 جنوری (ہ س)۔ پندرہ سال سے زائد عرصے سے بیرون ملک مقیم تقریباً 30 لاکھ برطانوی شہریوں کوالیکشنز ایکٹ 2022 کے نفاذ کے بعد برطانیہ کے عام انتخابات اور ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کا حق واپس مل گیا۔ اس کے ساتھ ہیری شنڈلر کی دو دہائیوں کی قانونی جدوجہد ختم ہو گئی۔ حالانکہ وہ اس لمحے کے گواہ نہیں بن سکے ۔ وہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق 16 جنوری سے ووٹنگ کے حقوق پر 15 سال کی من مانی حد کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں رہنے والے برطانوی شہری اب آن لائن ووٹ ڈالنے کے لیے اندراج کر سکتے ہیں،خواہ وہ کتنے عرصے سے بیرون ملک میں مقیم ہوں۔ اس قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی بیرون ملک مقیم برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کے اراکین اور حامیوں کا عالمی نیٹ ورک ‘کنزرویٹو ابروڈ’ کی قیادت میں ‘ووٹز فار لائف’ مہم کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ برطانوی وزیر مائیکل گوو نے کہا کہ ‘اب دنیا بھر میں رہنے والے برطانوی شہری مستقبل کے عام انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔ ملک کی حکمرانی کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں‘۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، پرانے قانون میں تبدیلی برطانیہ کو امریکہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا سمیت دیگر بڑی جمہوریتوں کی صف میں کھڑا کر دیتی ہے۔ اس مہم کی شریک چیئر جین گولڈنگ نے کہا ہے کہ یہ ایک تاریخی تبدیلی ہے۔ ہیری شنڈلر نے اس کے لیے بہت محنت کی۔ وہ یہ جنگ جیت تو گئے لیکن دیکھنے سے پہلے ہی مر گیے۔ رپورٹ کے مطابق ووٹنگ سے متعلق قانون گزشتہ سال 18 دسمبر کو منظور کیا گیا تھا۔ ہیری شنڈلر نے 2016 میں ووٹنگ کے حقوق پر 15 سال کی حد کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیاتھا ۔ اس کے بعد 2018 میں اس معاملے کو یورپی عدالت میں لے جایا گیا۔
ہندوستھان سماچار
