فلسطینی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے کے روز چھ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے گی، جبکہ چار یرغمالیوں کی لاشیں بھی حوالے کی جائیں گی۔ یہ پیش رفت غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے اختتام کے سلسلے میں سامنے آئی ہے۔ اس معاہدے پر عمل درآمد 19 جنوری کو شروع ہوا تھا۔ تاہم، حماس نے اسرائیل پر معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری جانب، مصری، قطری، اسرائیلی اور امریکی وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت مثبت انداز میں مکمل ہوئی ہے۔
BulletsIn
- حماس کا اعلان: تنظیم نے آئندہ ہفتے چھ اسرائیلی قیدیوں کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
- لاشوں کی واپسی: جمعرات کو چار اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کی جائیں گی۔
- فائر بندی معاہدہ: یہ اقدامات فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس کا نفاذ 19 جنوری کو ہوا تھا۔
- حماس کا الزام: تنظیم کے رہنما خلیل الحیہ نے اسرائیل پر معاہدے کی شرائط پر ٹال مٹول کا الزام عائد کیا ہے۔
- بین الاقوامی مذاکرات: قاہرہ میں مصری، قطری، اسرائیلی اور امریکی وفود کی ملاقات کامیاب رہی ہے۔
- غزہ میں بھاری مشینری کی آمد: رفح کراسنگ کے ذریعے تباہ حال غزہ میں تعمیر نو کے لیے مشینری اور موبائل گھر پہنچائے گئے ہیں۔
- رکاوٹوں کا خاتمہ: وساطت کاروں کی کوششوں سے اسرائیلی مخالفت کے باوجود مشینری کی آمد ممکن ہوئی۔
- اسرائیل کی تصدیق: ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ ملبہ ہٹانے کے لیے مشینری کی اجازت معاہدے کے تحت دی گئی ہے۔
- پہلے مرحلے کے نتائج: گزشتہ ہفتے تین اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے 369 فلسطینیوں کو اسرائیلی جیلوں سے آزاد کیا گیا تھا۔
- باقی یرغمالی: غزہ میں اب بھی 73 اسرائیلی یرغمالی موجود ہیں، جن میں سے اندازاً صرف نصف تعداد زندہ ہے۔
