جرمنی نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات پر محدودیاں عائد کر دی ہیں، جو مختلف عدالتی کیسز کے دباؤ کا نتیجہ ہیں۔ ان کیسز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جرمن ہتھیاروں کی برآمدات انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ رواں سال جرمنی کی اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ برلن کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہتھیاروں کی برآمد پر کوئی رسمی بائیکاٹ نہیں کیا گیا، لیکن برآمدات میں کمی ایک حقیقت ہے، اور دیگر یورپی ممالک بھی اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔
BulletsIn
- جرمنی نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات میں کمی کی منظوری دی ہے۔
- عدالتی کیسز میں جرمن ہتھیاروں کی برآمدات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
- 2024 میں اسرائیل کو صرف 14.5 ملین یورو مالیت کے ہتھیاروں کی منظوری دی گئی۔
- 2023 میں یہ تعداد 326.5 ملین یورو تھی، جو اس سال کی نسبت کافی زیادہ تھی۔
- جرمنی نے سرکاری طور پر اسرائیل کے خلاف ہتھیاروں کا بائیکاٹ نہیں کیا۔
- دیگر یورپی ممالک بھی اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
- اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات میں کمی، عدالتی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔
- جرمنی پر دباؤ ہے کہ وہ اپنی برآمدات کو انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق بنائے۔
