چلی کے سابق صدر سیبیسٹین پنیرا کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت
سینٹیاگو (چلی)، 7 فروری (ہ س)۔ جمہوریہ چلی کے سابق صدر 74 سالہ سیبیسٹین پنیرا کی منگل کو ہیلی کاپٹر حادثے میں موت ہوگئی۔ صدر گیبریل بورک نے پینیرا کی موت پر تین روزہ قومی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کے معروف اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پنیرا فوجی آمریت کے خاتمے کے بعد چلی کے پہلے قدامت پسند رہنما بنے۔ انہوں نے ملک کی جمہوریت کو مضبوط کرنے میں مدد کی۔
رپورٹ کے مطابق چار افراد کو لے جارہا ہیلی کاپٹر دوپہر ساڑھے تین بجے کے قریب جنوبی چلی کے لاس ریوس علاقے میں رینکو جھیل میں گر کر تباہ ہو گیا۔ تین لوگ بچ گئے اور تیر کر ساحل پر پہنچ گئے۔ چلی کی بحریہ نے آنجہانی سابق صدر پنیرا کی لاش برآمد کر لی ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ طیارے کا پائلٹ کون تھا۔ تاہم، پینیرا خود ہیلی کاپٹر اڑانے کے لیے جانے جاتے تھے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، پنیرا ایک ارب پتی تاجر اور سرمایہ کار تھے۔ انہوں نے 2010 سے 2014 تک اور 2018 سے 2022 تک چلی کے صدر کی حیثیت سے دو مرتبہ خدمات انجام دیں۔ قدامت پسند رہنما پینیرا نے کاروبار کی حامی پالیسیاں متعارف کروائیں۔ اس سے ترقی کو فروغ ملا۔ اس کے باوجود ان پر غریبوں کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی عائد ہوا۔ جس کی وجہ سے انہیں عوام کی شدید مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ پینیرا کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ سیسیلیا موریل اور چار بچے ہیں۔ انہوں نے موریل سے 1973 میں شادی کی تھی۔
چلی کے صدر گیبریل بورک نے منگل کو قوم سے ٹیلی ویژن پر خطاب میں کہا کہ ’’صدر پنیرا نے اپنے وژن سے ملک کی بہتری کے لیے بہت بڑا کردار ادا کیا۔ وہ شروع سے ہی جمہوریت پسند تھے۔‘‘ اپنے خطاب میں انہوں نے چلی میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔
