پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ، بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کی جانب سے آئینی پیکیج کو غیر مؤثر انداز میں استعمال کرنے پر تنقید کی۔ انہوں نے حکومت کی ناکامی کی وجہ وفاقی سطح پر اور صوبوں میں آئینی عدالت کے قیام پر زور دیا اور پارلیمنٹ میں آئینی پیکیج کی منظوری میں ناکامی کی وجوہات بیان کی۔
BulletsIn
- بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر آئینی پیکیج کو غلط انداز میں پیش کرنے پر تنقید کی۔
- انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناکامی کی وجہ مناسب ہوم ورک نہ کرنا تھا۔
- بلاول نے آئینی عدالت کے قیام کی اہمیت پر زور دیا، نہ صرف وفاقی سطح پر بلکہ تمام صوبوں میں۔
- انہوں نے بتایا کہ حکومت نے پہلی بار آئینی پیکیج کو پارلیمنٹ میں ہفتہ اور اتوار کو پیش کرنے کی کوشش کی۔
- مولانا فضل الرحمن کی حمایت کے بعد ہی حکومت نے اس پیکیج کو پیش کرنے کا ارادہ کیا، تاہم سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے نے صورتحال بدل دی۔
- بلاول کے مطابق، سپریم کورٹ کے فیصلے نے حکومت کی جانب سے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔
- بلاول نے کہا کہ انہیں یقین تھا کہ مولانا فضل الرحمن اور سردار اختر مینگل کی حمایت حاصل تھی، مگر اس کے باوجود پیکیج منظور نہیں ہو سکا۔
- انہوں نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کو منانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
- بلاول نے عمران خان کی پارٹی کو مختلف مواقع پر حمایت فراہم کرنے کا اعتراف کیا، بشمول فوجی ٹرائل کی مخالفت اور انتخابات کے انعقاد کے آئینی تقاضے کی حمایت۔
- بلاول نے کرپشن کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ نیب کو ختم کرنا کرپشن کے خاتمے کے لیے سب سے ضروری قدم ہے۔
