دمشق،06جولائی(ہ س)۔
برطانوی حکومت نے ہفتے کے روز شام کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان کردیا ، برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لامی نے شام کا دورہ کیا، یہ 14 سالوں میں کسی برطانوی وزیر کا پہلا دورہ ہے۔شام کے صدر احمد الشرع اور ان کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے ہفتے کو دمشق میں برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لامی سے ملاقات کی۔ فریقین نے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں بات چیت اور تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
لامی نے بین الاقوامی برادری کے حوالے سے شامی حکومت کے لیے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے شامیوں کی اپنی زندگیوں اور اپنے ملک کی تعمیر نو میں حاصل کی گئی قابل ذکر پیشرفت کا مشاہدہ کیا ہے۔برطانوی حکومت نے شامیوں کے لیے فوری انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے 94.5 ملین پاو¿نڈ کی اضافی رقم کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران شامی ایوان صدر نے ” ایکس“ پر کہا ہے کہ الشرع نے ڈیڈ لامی کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
العربیہ کے ذرائع نے بتایا کہ برطانیہ موجودہ حکومت اور قسد (شام کی ڈیموکریٹک فورسز) کے درمیان کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ شام اور برطانیہ کے درمیان سفارتخانوں کو دوبارہ کھولنا دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ داعش کے جنگجو اور ایران سے منسلک ملیشیاو¿ں کے مسائل برطانوی- شامی بات چیت کا حصہ تھے۔
واضح رہے 2011 میں شامی انقلاب کے آغاز پر برطانیہ نے بشار الاسد کی حکومت کی احتجاج کو دبانے کی مذمت کی تھی۔ اس کے بعد 2012 میں برطانیہ نے شام سے اپنے تمام سفارتی عملے کو واپس بلا لیا اور حفاظتی وجوہات کی بنا پر اپنے سفارت خانے کا کام معطل کر دیا تھا۔برطانوی موقف 2013 میں اس وقت ایک دوراہے پر آ گیا جب شامی حکومت نے دمشق کے علاقے غوطہ میں شہریوں پر کیمیائی حملہ کیا جس کے بعد اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے شام میں فوجی مداخلت کا خیال پیش کیا تھا لیکن ہاو¿س آف کامنز کی اکثریت نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
