نئی دہلی22جنوری(ہ س)۔
کوچنگ اداروں کی من مانی کو روکنے کی غرض سے مرکزی حکومت کے وزارتِ تعلیم کی جانب سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ جس کے تحت اب 16 سال سے کم عمر کے بچوں کا کوچنگ سینٹرز میں داخلہ نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی کوچنگ ادارے کسی طالب علم سے من مانی فیس وصول کر سکیں گے۔ یہ نئے رہنما خطوط کوچنگ مراکز سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں ان شاءاللہ مددگار ثابت ہونگے۔ اس طرح کا اظہارِ خیال اساتذہ کی ملک گیر رجسٹرڈ تنظیم آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسی ایشن AIITA کے قومی صدر شیخ عبدالرحیم صاحب نے حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ بہت سے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر چلائے جارہے ہیں جو کہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب نئی ہدایات کے جاری ہونے کے بعد انہیں سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ اسکولوں کے تعلیمی نظام کو بھی مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ اس مسابقتی دور میں طلباءکو بہتر تعلیم کے لیے کوچنگ اداروں کا سہارا نہ لینا پڑے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ رہنما خطوط میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی کوچنگ انسٹی ٹیوٹ گریجویشن سے کم قابلیت والے اساتذہ کی تقرری نہیں کرے گا نیز کوچنگ انسٹی ٹیوٹ طلباء کے اندراج کے لئے ان کے والدین سے رینک اور اچھے نمبروں کی ضمانت کے گمراہ کن وعدے نہیں کر سکتے۔ مرکزی حکومت کے وزارتِ تعلیم نے یہ رہنما خطوط کو طالب علموں کی خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات، کوچنگ اداروں میں سہولیات کی عدم فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کے ذریعہ اپنائے گئے تدریسی طریقوں سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کے بعد تیار کیے ہیں۔
آئیٹا کے نیشنل میڈیا سیکریٹری فہیم مومن نے کہا کہ ان رہنما خطوط کے متعارف ہونے کے بعد کوچنگ ادارے من مانی نہیں کریں گے اور متوسط طبقے کے طلباء اور والدین کا مالی اور ذہنی استحصال بند ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنما خطوط میں طلباءکی ذہنی تندرستی کے بارے میں تفصیلی خاکہ گزشتہ سال کوٹا میں طلباءکی خودکشی کے واقعہ کے بعد سامنے آیا ہے۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ مختلف کورسز کی فیس واجبی ہونی چاہیے اور وصول کی گئی فیس کی رسید بھی دی جانی چاہیے۔ جاری کردہ ہدایات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی طالب علم کورس کو درمیان میں چھوڑ دیتا ہے تو اس کی بقیہ مدت کی فیس واپس کردی جائے۔ یہ ایک بہت خوش آئند قدم ہے AIITA اس فیصلے کی حمایت کرتی ہے۔
ہندوستھان سماچار/افصل
