نیپال – بھارت سرحدی سیکورٹی میٹنگ: تیسرے ملک کے شخص کے نیپال کے راستے بھارت میں داخلے کا معاملہ، سیما حیدر کی مثال دی گئی
۔ دونوں ممالک کے درمیان دو روزہ اجلاس منگل کی شام نئی دہلی میں ختم ہوگا
کٹھمنڈو، 7 نومبر (ہ س)۔ نیپال اور ہندوستان کے سیکورٹی حکام کے درمیان دو روزہ سرحدی سیکورٹی کوآرڈینیشن میٹنگ، جو پیر کو نئی دہلی میں شروع ہوئی تھی، منگل کی شام کو ختم ہوگی۔ اس میٹنگ میں سیما حیدر کی مثال دیتے ہوئے ہندوستان کی جانب سے نیپال کے راستے کسی تیسرے ملک سے ہندوستان میں داخل ہونے کا معاملہ اٹھایا گیا۔
ہندوستانی مسلح افواج (ایس ایس بی) کے زیراہتمام منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں نیپال کی نمائندگی آرمڈ گارڈ فورس (اے پی ایف) کے انسپکٹر جنرل راجو اریال کررہے ہیں جب کہ ایس ایس بی کی ڈائریکٹر جنرل رشمی شکلا ہندوستانی فریق کی قیادت کر رہی ہیں۔ اس دو روزہ سیکورٹی کوآرڈینیشن میٹنگ میں اے پی ایف کے آئی جی پی راجو اریال نے سرحدی سیکورٹی کے دوران درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے لیے تجربات کے تبادلے کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس میٹنگ کا بنیادی مقصد سرحدی سلامتی سے متعلق مختلف جہتوں پر بات چیت کرنا ہے۔
آئی جی پی اریال کا کہنا ہے کہ کھلی سرحد کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کے لیے جرائم کی وارداتیں کرکے سرحد عبور کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس کے ساتھ منشیات کی تجارت سے لے کر غیر قانونی سامان لانے تک دونوں سیکورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کیسے پیدا کی جائے اس پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
نیپال کے راستے تیسرے ملک کے افراد کے ہندوستان میں داخلے کا مسئلہ ایس ایس بی نے اٹھایا۔ پاکستانی خاتون سیما حیدر کے نیپال کے راستے ہندوستان میں آسانی سے داخل ہونے کی مثال دیتے ہوئے ایس ایس بی نے اس سلسلے میں خصوصی چوکسی رکھنے پر زور دیا ہے۔ میٹنگ میں شریک ایس ایس بی حکام نے بارڈر سیکورٹی کے دوران ہر روز نئے چیلنجوں کا سامنا کرنے اور ان سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ تال میل پر زور دیا۔
نیپال کی طرف سے بھی اے پی ایف کے آئی جی پی راجو اریال نے کہا کہ ریئل ٹائم انٹیلی جنس شیئرنگ کے حوالے سے تقریباً اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ منگل کی شام تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد دونوں جانب سے مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا اور اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی باضابطہ معلومات دی جائیں گی۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
