اسلام آباد، 06 اگست (ہ س)۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے منگل کو اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے خلاف مسلح جدوجہد میں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کرے گی۔ ٹی ٹی پی رہنماو¿ں نے یہ وعدہ بھی کیا کہ اب سے قبائلی ضلع خیبر کی شورش زدہ وادی تیراہ میں زکوٰة اور عشر کے نام پر بھتہ نہیں لیا جائے گا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے لیٹر ہیڈ پر پشتو زبان میں لکھا گیا اور اس کی سپریم کونسل (رہبری شوریٰ) کی مہر والا یہ معاہدہ بار قمبرخیل کے ایک بزرگ نے مقامی قبائلیوں کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ یہ معاہدہ عام قبائلیوں کے خلاف دشمنی ختم کرنے اور امن کی بحالی کے لیے تیراہ سے واپسی کے مطالبے کے جواب میں کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ منگل کو خیبر کے علاقے تیراہ میں بار قمبر خیل قبیلے کے جرگے کے دوران طے پایا۔
اس دوران کالعدم ٹی ٹی پی رہنماو¿ں نے سیکیورٹی فورسز کے خلاف اپنی مسلح مزاحمت جاری رکھنے اور سیکیورٹی فورسز کی حمایت کرنے والوں یا ان کے خلاف جاسوسی کے مرتکب پائے جانے والوں کو سزا دینے کا عزم کیا۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ہمارا واحد مقصد اسلام دشمن قوتوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف مسلح جدوجہد (جہاد) ہے۔ ہم مقامی لوگوں کے اندرونی اور نجی معاملات میں اپنی مداخلت کو نامناسب سمجھتے ہیں اس لیے ہم نے اپنے رضاکاروں کو ایسا کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔
معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے ارکان لوگوں کے گھروں میں پناہ نہیں لیں گے اور نہ ہی اسے سیکیورٹی فورسز کے خلاف بنکر کے طور پر استعمال کریں گے، لیکن وہ ایسی کسی بھی نجی عمارت میں سیکیورٹی فورسز کے قیام کی مخالفت کریں گے۔ ٹی ٹی پی رہنماو¿ں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ جنگجو کسی کو اغوا یا ہراساں نہیں کریں گے۔
مذاکرات کا پہلا دور 28 جولائی کو تیراہ کے علاقے بار قمبر خیل میں ہوا۔ اس دوران ٹی ٹی پی کے مقامی کمانڈروں نے جرگے کے مطالبات افغانستان میں اپنی قیادت تک پہنچانے کے لیے 5 اگست تک کا وقت مانگا تھا۔ اس معاہدے کو تیراہ کے بیشتر مکینوں نے سراہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ
