تل ابیب/واشنگٹن/یروشلم، 27 اکتوبر (ہ س)۔ رواں ماہ کی سات تاریخ کو فلسطینی جنگجو تنظیم حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد پوری غزہ پٹی جنگ کے شعلوں میں جل رہی ہے۔ اسرائیل نے فضائی حملوں کے بعد زمینی حملے کی مکمل تیاری کر لی ہے۔ اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ ادھر امریکہ نے شام پر فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ اطلاع میڈیا رپورٹس میں دی گئی ہے۔
اسرائیلی جنگی طیاروں نے جمعرات کو خان یونس (غزہ) میں رہائشی علاقوں پر بمباری کی۔ اس سے قبل اسرائیلی ٹینکوں اور فوجی دستوں نے غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر محدود زمینی حملے کیے تھے۔ زمینی حملے سے پہلے، ٹینکوں اور انفینٹری یونٹوں نے حماس کے زیر کنٹرول غزہ پر رات بھر چھاپے مارے۔ اس صورتحال پر اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ پٹی میں ایندھن ختم ہونے کے دہانے پر ہے جس کی وجہ سے اسے علاقے میں امدادی سرگرمیاں روکنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
اسرائیل کی فضائیہ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں کچھ یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کوجنوبی اسرائیل کی سرحد کے قریب کیبوٹز بیری میں کی گئی۔ حماس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں 50 یرغمالی اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق غزہ میں 1600 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ان میں 900 بچے بھی شامل ہیں۔ فضائی حملوں میں منہدم ہونے والی عمارتوں میں کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے حماس کے 250 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کی فوج آج پیش قدمی کر سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی سرحد کے قریب مصر کے بحیرہ احمر پر طابا شہر میں میزائل نے ایک طبی مرکز کو نشانہ بنایا۔ اس میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ لیکن اسرائیل نے اس حملے کی تردید کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور حماس کی جنگ کا آج 21 واں دن ہے۔ حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیلی فوج مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔ غزہ پٹی میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بمباری سے اب تک 7000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حماس کے حملوں میں اب تک 1400 سے زائد اسرائیلی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس جنگ کے درمیان امریکہ نے شام میں ایران کے پاسداران انقلاب سے وابستہ دو مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں۔ پینٹاگون نے کہا کہ یہ حملے امریکی اہداف اور اہلکاروں کے خلاف حالیہ ڈرون اور میزائل حملوں کا جواب ہیں۔ امریکی وزارت دفاع نے جمعرات کو کہا کہ تقریباً 900 امریکی فوجی مغربی ایشیا میں تعینات کیے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
