نیویارک،20اگست(ہ س)۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے تمام علاقوں میں قحط کا خطرہ بڑھ رہا ہے، کیونکہ اسرائیل امدادی سامان کی رسائی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور عسکری حملے جاری ہیں جو مزید فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر رہے ہیں۔دفتر کے ترجمان ثمین الخیطان نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال براہ راست اسرائیلی حکومت کی پالیسی کا نتیجہ ہے جو انسانی امداد کی رسائی کو روک رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ ہفتوں میں غزہ میں پہنچنے والی امداد کی مقدار قحط سے بچنے کے لیے ضروری مقدار سے بہت کم ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھوک سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے شمالی علاقے میں اپنی کارروائیاں بڑھا دی ہیں اور فلسطینیوں کو المواصی کی جانب نقل مکانی کا حکم دیا ہے، حالانکہ وہاں بھی اسرائیلی فوج بمباری کررہی ہے جس کے نتیجے میں حالات انتہائی خراب ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ المواصی میں لاکھوں پناہ گزین خوراک، پانی، بجلی اور پناہ کی سہولت سے محروم ہیں۔
الخیطان نے بتایا کہ امدادی سامان تک رسائی جان لیوا ہو سکتی ہے اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 27 مئی سے اب تک 1857 فلسطینی خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔
ادھر ادارہ برائے انسانی ہم آہنگی کے ترجمان ینس لارکے نے کہا کہ صورتحال پہلے ہی بگڑ چکی ہے کیونکہ اسرائیل نے پناہ گاہ کے سامان کی رسائی پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔لارکے نے بتایا کہ پناہ گاہ کے سامان کی پابندی تقریباً پانچ ماہ جاری رہی، جس کے دوران 700 ہزار سے زیادہ فلسطینی دوبارہ نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جس سے خاندانوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں، جو اکثر اپنے خیمے پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ شہر میں عسکری کارروائی بڑھاتا ہے تو یہ مزید نقل مکانی کی لہر پیدا کرے گا، خاص طور پر بچوں، خواتین، زخمیوں اور معذوروں کے لیے خطرناک ثابت ہو گا۔اگرچہ اسرائیل نے حال ہی میں پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا، اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار اب تک کسی بھی امدادی سامان کو داخل نہیں کر سکے، کیونکہ کسٹمز کے اجازت نامے اور دیگر انتظامی رکاوٹیں موجود ہیں۔اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ غزہ میں 13 لاکھ 50 ہزار افراد کو فوری پناہ کی ضرورت ہے، جبکہ موجودہ خیمے بار بار نقل مکانی اور شدید موسمی حالات کی وجہ سے خراب ہو چکے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
