
غزہ میں پوری رات گرجتے رہے اسرائیلی ٹینک اور جنگی طیارے، انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند
۔ فلسطین کی جنگجو تنظیم حماس نے کہا- حملہ بند کرو، تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے گا
تل ابیب/یروشلم/واشنگٹن، 28 اکتوبر (ہ س)۔ اسرائیل کے جارحانہ موقف کی وجہ سے فلسطین کی جنگجو تنظیم حماس غزہ پر بمباری کے باعث نرم پڑگئی ہے۔ جنگجو اسرائیل سے حملہ بند کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ وعدہ کررہے ہیں کہ وہ تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیں گے۔ اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے رات بھر غزہ پٹی پر زمینی اور فضا سے طاقتور حملے کیے ہیں۔
غزہ پٹی رواں ماہ کی سات تاریخ سے جنگ کی آگ میں جل رہی ہے۔ یہ لڑائی حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ دریں اثناء انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز میں خلل کے باعث غزہ میں رہنے والے لوگوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ اس جنگ کے دوران غزہ میں اب تک 7,326 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 3,038 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اطلاع میڈیا رپورٹس میں دی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کے چیف ترجمان نے کہا کہ فضائیہ اور فوج نے غزہ کی پٹی میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ غزہ میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کر دی گئی ہے۔ فلسطین کے دو اہم موبائل نیٹ ورکس جووال اور پالٹیل نے بھی کہا کہ نئے حملوں کے بعد ان کی فون لائنز اور انٹرنیٹ سروسز بند ہو گئی ہیں۔
غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 7,326 ہو گئی ہے جن میں 3,038 بچے بھی شامل ہیں۔ بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شام کے وقت غزہ پر بمباری شروع کردی۔ غزہ میں ہفتہ کی صبح تک آگ کے شعلے بھڑکتے رہے۔ اس سب کے درمیان حماس نے کہا ہے کہ اس کے جنگجو مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوجیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
اسرائیل کی بری فوج کے رویے سے امریکہ کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ زمینی حملے کی وجہ سے مغویوں کی رہائی پر جاری مذاکرات پٹری سے اتر سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایدھنوم گیبریئس نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی سہولیات کی بندش کی وجہ سے ادارہ اپنے اہلکاروں اور ہیلتھ ورکرز سے رابطہ قائم نہیں کر پا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ میں مزید چھ جنگجو کمانڈر مارے گئے ہیں۔ ان میں حماس کے پانچ کمانڈر اور فلسطینی اسلامی جہاد کا ایک کمانڈر بھی شامل ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حماس اپنے کئی کمانڈروں کی ہلاکت اور اپنے ٹھکانوں کی تباہی سے خوفزدہ ہے۔ اس نے کہا کہ اگر حملے بند ہو گئے تو وہ یرغمالیوں کو رہا کر سکتا ہے۔ تاہم اسرائیل نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ اس کے زمینی حملے جاری ہیں۔ اس نے 24 گھنٹوں کے اندر غزہ میں چھاپہ مار کارروائی بھی کی ہے۔ مغربی کنارے میں حماس کے جنگجووں سمیت 36 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
دریں اثنا وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ شام میں حالیہ امریکی حملوں نے ایران سے منسلک ملیشیا کی گولہ بارود کی سپلائی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ حماس کا حملہ 2018 کے پٹسبرگ عبادت گاہ کے قتل عام کے ‘زخم کو گہرا کر رہا ہے۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل نے زمینی لڑائی کے لیے اپنے اقدامات بڑھا دیے ہیں۔ دوسری جانب نیویارک اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے مطالبے کو لیکر میں یہودی وائس فار پیس کی کال پر گرینڈ سینٹرل ٹرمینل پر سینکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا۔ ان سب کو بعد میں پولیس نے گرفتار کر لیا۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
