واشنگٹن، 17 دسمبر (ہ س)۔
غزہ پٹی میں فلسطینی جنگجو تنظیم حماس اور اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے درمیان چھڑی جنگ میں امریکی ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (یو ایس اے آئی ڈی) کے ٹھیکیدار 33 سالہ ہانی جینا، ان کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کی ہلاکت سے انسانی اور ترقیاتی کارکنوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
امریکہ کے معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (یو ایس اے آئی ڈی) نے کہا ہے کہ ہانی جینا غزہ پٹی میں الصابرہ میں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہے تھے۔ جینا اور ان کا خاندان 5 نومبر کو ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔ اپنی موت سے قبل 33 سالہ ہانی جینا نے مغربی کنارے میں اپنے ساتھیوں کے نام ایک پیغام میں کہا تھا: ’’میری بیٹیاں خوفزدہ ہیں۔ میں انہیں پرسکون رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ لیکن یہ بمباری خوفناک ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یو ایس اے آئی ڈی نے کہا کہ غزہ پٹی میں دو ماہ سے جاری جنگ کے دوران ہانی جینا سمیت سینکڑوں انسانی اور ترقیاتی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تشویش اور غصے کی بات ہے۔ یو ایس اے آئی ڈی نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن غزہ پٹی میں جاری خونریزی پر فوری مداخلت کریں۔ بائیڈن انتظامیہ کو اسرائیل پر شہریوں کی خونریزی کو محدود کرنے کے لیے دباو بڑھانا چاہیے۔
یو ایس اے آئی ڈی کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں اقوام متحدہ کے 135 امدادی کارکن مارے جا چکے ہیں۔ یہ تنظیم کی 78 سالہ تاریخ میں کسی ایک تنازعے سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ سیو دی چلڈرن جیسے بڑے امدادی گروپوں کو بھی نقصان ہوا ہے۔ یو ایس اے آئی ڈی نے منگل کو کہا کہ ان کی تنظیم کے 10 دیگر ارکان بھی 10 دسمبر کو اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
ہندوستھان سماچار//محمد
