تل ابیب،یکم نومبر( ہ س)۔
چلی کی حکومت نے منگل کے روز اسرائیل سے اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا۔ چلی نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر حالیہ فوجی حملوں سے پیدا ہونے والی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کو اس کی وجہ قرار دیا۔جنوبی امریکی ملک کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، چلی ان فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور ان کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
وزارت نے کہا، چلی نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں غزہ کی فلسطینی شہری آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہیں۔اس نے دشمنی کے فوری خاتمے، حماس کے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی اور غزہ کی تقریباً 20 لاکھ آبادی کے لیے انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔اس سے قبل چلی کی وزارتِ خارجہ نے ایک الگ بیان میں اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے درمیان دو ریاستی حل پر زور دیا تھا۔غزہ پر اسرائیلی حملوں پر چلی کی تنقید ہمسایہ ملک بولیویا کی طرف سے منگل کو انسانیت کے خلاف جرائم کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات توڑنے کے اقدام کے بعد سامنے آئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
