-اسرائیل کی تجویز، حماس 136 یرغمالیوں کو مرحلہ وار رہا کرے تو دو ماہ کے لیے لڑائی روک دی جائے گی
تل ابیب، 23 جنوری (ہ س)۔ غزہ کی پٹی میں تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں اسرائیل کی فوج کو اب تک کا سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس لڑائی میں 24 گھنٹوں میں 21 فوجی مارے گئے۔ ادھر اسرائیل نے ثالثوں کے ذریعے فلسطینی دہشت گرد تنظیم حماس کو جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز وسطی غزہ میں دو عمارتوں میں ہونے والے دھماکوں میں 21 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔ دھماکا حماس کے جنگجو کی جانب سے ایک ٹینک پر راکٹ سے چلنے والا گرینیڈ فائر کرنے سے ہوا۔ اس جنگ میں شہید ہونے والے فوجیوں کی تعداد 219 ہو گئی ہے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا ہے کہ جنگ میں ہمارے بہت سے بہترین بیٹے مارے گئے ہیں۔ یہ ایک ناقابل برداشت مشکل صبح ہے۔ انہوں نے ملک کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو تسلی دی ہے۔
وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے بھی کہا کہ یہ ایک مشکل اور تکلیف دہ صبح ہے۔ گیلنٹ نے کہا ہے کہ یہ جنگ آنے والی دہائیوں تک اسرائیل کے مستقبل کا تعین کرے گی۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری نے وسطی غزہ میں کسوفیم کی سرحدی بارڈر کے قریب ہونے والے واقعے میں 21 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
دی اسرائیل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے قطر اور مصر کے ثالثوں کے ذریعے حماس کو ایک تجویز پیش کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر حماس غزہ میں بقیہ 136 مغویوں کی مرحلہ وار رہائی پر راضی ہو جاتی ہے تو اسرائیل دو ماہ کے لیے حماس کے خلاف فوجی کارروائیاں روک دے گا۔
سی این این کی خبر کے مطابق، موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے تجویز پیش کی کہ وسیع جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس کے رہنماؤں کو غزہ کی پٹی سے ملک بدر کیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
