دمشق،یکم نومبر(ہ س)۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام میں بین الاقوامی اتحاد کا سب سے بڑا اڈہ دھماکوں سے لرز اٹھا۔دیر الزور کے مشرقی دیہی علاقوں میں العمر آئل فیلڈ میں آج منگل کو پرتشدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔آبزرویٹری نے بتایا کہ شام کی سرزمین کے اندرموجود امریکی فوجی اڈوں پر حال ہی میں سخت فوجی تربیت کی جا رہی ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے وفادار دھڑوں کی طرف سے شام اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
جمعے کے روز دیر الزور کے مشرقی دیہی علاقوں میں دھڑوں کے ٹھکانوں پر امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کے وفادار دھڑوں کے درمیان متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔جمعہ کو ایک بیان میں امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے حوالے سے کہا کہ امریکی افواج نے مشرقی شام میں دو تنصیبات پر حملے کیے جو ایرانی پاسداران انقلاب اور اس سے منسلک گروپوں کے زیر استعمال ہیں۔لائیڈ آسٹن نے کہا کہ یہ حملے شام اور عراق میں امریکی اہلکاروں کے خلاف ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے حملوں کے جاری سلسلے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔یہ غزہ پر انتقامی کارروائی کے لیے ملیشیا کی جانب سے شامی علاقے میں امریکی اڈوں پر حملوں میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔گذشتہ چند دنوں کے دوران ملیشیاوں نے شمالی اور مشرقی شام میں اپنے اڈوں کے اندر بین الاقوامی اتحادی فورسز کے خلاف حملے کیے ہیں۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے 19 اکتوبر سے بین الاقوامی اتحاد پر 15 حملے کیے ہیں۔حملوں کا نشانہ بننے والے اڈوں میں التنف بیس پر، العمر آئل فیلڈ، 3 کونیکو گیس فیلڈ، المالکیہ اور الشدادی بیس پر شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
