روس کے حملے میں اب تک 10 ہزار یوکرینی شہری ہلاک، زیلنسکی کا امن مذاکرات سے انکار
۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے تشویش کا اظہار کیا
جنیوا، 22 نومبر (ہ س)۔ روسی حملے میں اب تک یوکرین کے 10 ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ روز بروز روسی حملوں کے باعث ہلاکتوں کی یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔ پیر کی دیر رات یوکرین کے مشرقی ڈونیٹسک اور خارکیف علاقوں میں روسی میزائل حملوں میں تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے منگل کو 10,000 یوکرینی شہریوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا۔ روس یوکرین جنگ 21ویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں روس کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کی وجہ سے ہونے والی نصف اموات سرحد سے بہت دور ہوئیں۔ مرنے والوں میں سے ایک تہائی کی عمر 60 سال سے زیادہ ہے۔ تاہم ماسکو نے شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
ادھر پیر کے روز مشرقی شہر باخموت روسی حملوں سے تباہ ہو گیا۔ کیف کی طرف پیش قدمی میں ناکامی کے بعد روس یوکرین کے مشرقی علاقوں پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے منگل کو ماسکو کے ساتھ جنگ میں یوکرین کی فوج کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال کے باوجود امن مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا۔
ایک روسی اہلکار نے منگل کو کہا کہ کیف میں موجودہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت ممکن نہیں ہے۔ یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے منگل کو جنگ زدہ شہر کیف کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ یوکرین مسلسل یورپی یونین کے قریب آرہا ہے اور اس کی ترقی قابل ذکر ہے۔ ہم روس کے خلاف جنگ میں اس کی حمایت جاری رکھیں گے۔
جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی منگل کو کیف کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور روس کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے کیف کی کوششوں کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔
امریکہ نے پیر کو یوکرین کے لیے 100 ملین ڈالر کے نئے امدادی پیکج کا اعلان کیا۔ جیولن، اے ٹی- 4 لانچرز، چھوٹے ہتھیاروں کا گولہ بارود، اسٹنگر اینٹی ایئر کرافٹ میزائل وغیرہ بھی پیکج میں شامل ہیں۔ جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی یوکرین کے لیے 142 ملین ڈالر کے فوجی امدادی پیکج کا اعلان کیا۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
