کیو، 7 ستمبر (ہ س)۔ روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیو پر اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ کیا، ہفتے کی رات سے اتوار کی صبح تک 805 ڈرونز اور 13 میزائل داغے۔ ان حملوں میں 3 افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔ روسی حملے میں یہ پہلا موقع ہے کہ یوکرائنی حکومت کی اہم عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان تمام عمارتوں میں آگ بجھانے والے فائر فائٹرز کو دیکھا گیا اور پورے شہر میں افراتفری کا ماحول تھا۔
کیو پوسٹ کے مطابق روسی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے فضائی دفاعی نظام نے 751 اہداف کو روکا یا ناکارہ کردیا تاہم میزائلوں اور ڈرونز نے ملک بھر میں 37 مقامات پر حملے کیے جس سے کئی مقامات پر آگ لگ گئی۔ ان حملوں میں کئی رہائشی اور انتظامی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ روس اور یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حکومتی ہیڈ کوارٹر پر حملے میں کابینہ کی عمارت میں آگ لگ گئی۔
یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے اس طرح کے حملے رات بھر جاری رہے۔ حملے ڈرون سے شروع ہوئے جو میزائل حملوں میں بدل گئے۔ روس کے ان حملوں کے دوران شدید خوف و ہراس اور افراتفری کی صورتحال دیکھی گئی۔ ملک بھر میں فضائی الرٹ جاری کر دیا گیا اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کو کہا گیا۔ فائر بریگیڈ کے عملے اور امدادی ٹیموں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے لگنے والی آگ بجھاتے ہوئے دیکھا گیا۔
یوکرین پر روس کا یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب تقریباً تین سال سے جاری اس جنگ کو روکنے کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ادھر فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں 24 ممالک نے جنگ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی مانیٹرنگ فورس میں شامل ہونے کی بات کی ہے۔ کیو کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سیکیورٹی معاہدے اسی وقت کارآمد ہوں گے جب مغربی فوجی اس میں شامل ہوں گے تاہم روسی صدر پوتین نے اس پر اتفاق کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی دونوں فریقوں کے درمیان امن مذاکرات کے دعوے کرتے رہے ہیں لیکن موجودہ حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امن مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔
ہندوستھان سماچار
—————
ہندوستان سماچار / عبدالواحد
