غزہ ،17اکتوبر(ہ س)۔
غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کے قریبی علاقے کو پیر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دسویں دن ایک نئے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ 7 اکتوبر سے اس علاقے پر تین مرتبہ حملہ کیا گیا ہے۔ ایجنسی فرانس پریس کے مطابق رفح کراسنگ پر سینکڑوں فلسطینیوں کا ہجوم جمع ہے۔ یہ افراد رفح کراسنگ عبور کرنے کی اجازت کے منتظر ہیں۔
دریں اثنا سی این این کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ایندھن کے 6 ٹرک رفح کراسنگ سے غزہ میں داخل ہوئے ہیں۔ اسرائیل کو رفح کراسنگ سے تمام امدادی ٹرکوں کے داخلے پر تحفظات ہیں اور اس نے ان کی تعداد میں کمی کی درخواست کی ہے۔
مختلف قومیتوں کے سینکڑوں غیر ملکی شہریوں کے ساتھ ساتھ دوہری شہریت والے فلسطینی بھی پیر کی صبح سے ہی رفح کراسنگ کے دروازے کے سامنے جمع تھے۔وائٹ ہاوس کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ وائٹ ہاوس کے حکام کو امید ہے کہ غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کو پیر کو چند گھنٹوں کے بعد کھول دیا جائے گا تاکہ متوقع اسرائیلی زمینی حملے سے قبل کچھ لوگوں کو پٹی سے نکلنے کی اجازت دی جا سکے۔غیر ملکیوں کو نکالنے اور امداد پہنچانے کے لیے جنوبی غزہ میں 5 گھنٹے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد رفح کراسنگ کو کھولنے کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
”العربیہ“کے نامہ نگار نے بتایا تھا کہ 100 سے زیادہ ٹرک غزہ میں داخل ہونے کے منتظر ہیں۔ یہ ٹرک العریش سے رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی نہ ہونے کی وجہ سے غزہ کے لیے امدادی قافلہ العریش سے آگے نہیں بڑھا۔ انہوں نے جنوبی غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے جاری سیاسی مشاورت کا بھی اشارہ دیا۔ دوسری طرف حماس کے ایک رہنما نے کراسنگ کھولنے کے لیے کسی بھی معاہدے کے وجود سے انکار کردیا۔اس سے قبل دو مصری سیکورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ امریکہ، اسرائیل اور مصر کے درمیان جنوبی غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ معاہدہ رفح بارڈر کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ ہی جی ایم ٹی وقت کے مطابق صبح چھ بجے شروع ہوگا۔ تاہم بعد میں اسرائیل اور حماس نے جنگ بندی کی تردید کردی۔اسرائیل میں امریکی سفارت خانے نے پیر کو کہا کہ میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے رفح کراسنگ مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے کھول دی جائے گی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ مسافروں کو اسے عبور کرنے کی اجازت ہوگی یا نہیں۔ اور یہ کراسنگ کتنے وقت کے لیے کھولی جائے گی۔امریکی سفارت خانے نے غزہ میں اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ رفح کراسنگ کو محفوظ سمجھتے ہیں تو اس غزہ سے نکلنے کے لیے اس کی طرف جائیں۔
ہندوستھان سماچار
