ماسکو،08دسمبر(ہ س)۔
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور روسی صدر ولادی میر پوتن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تنازع فلسطین کا دو ریاستی حل خطے میں سلامتی اور استحکام کے حصول کا ضامن ہوسکتا ہے اور اس کے بغیرامن کے حصول کا کوئی راستہ نہیں ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز اور روسی صدر کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور روس نے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہ نماو¿ں نے فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، غزہ میں انسانی تباہی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور فلسطینی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ روس اور سعودی عرب نےبین الاقوامی انسانی تنظیموں کو فلسطینی عوام کو انسانی امداد کی فراہمی میں معاونت پر زور دیا اور امدادی کوششوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیا۔سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی طرف سے شائع ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین میں سلامتی اور استحکام کے حصول کا بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔سعودی اور روسی قیادت نے خطے میں دیرپا امن کے حصول کے لیے دو ریاستی حل، امن بقائے باہمی اور فلسطینی عوام کے لیے باوقار زندگی اور حق خود ارادیت کی حمایت پر زور دیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سنہ 1967ءسے قبل کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست کا قیام اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانے سے خطے میں امن کا دروازہ کھل سکتا ہے۔ دونوں ممالک عالمی برادری سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کوششیں تیز کرے اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو رکوائے۔خیال رہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتین آج جمعرات کو سعودی عرب کے سرکاری دورے پر الریاض پہنچے تھے جہاں انہوں نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، خطے بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال، سوڈان میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام پر تبادلہ خیال کیا۔
ہندوستھان سماچار
