سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دنیا بھر کے مسلم رہنماوں کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے دیا سخت پیغام
تل ابیب/ریاض، 12 نومبر (ہ س)۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دنیا بھر کے مسلم ممالک کے رہنماوں کی کانفرنس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ غزہ پر فوج کا کنٹرول ہوگا۔ اسرائیل حماس کو تباہ کرنے کے بعد ہی دم لے گا، چاہے پوری دنیا کو اس کے خلاف جانا پڑے۔ وہ وہاں کی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی طاقتوں پر بھروسہ نہیں کرے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے وزیر دفاع یوو گیلینٹ کے ساتھ پریس کانفرنس میں دنیا کو سخت پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل حماس کو مٹا کر رہے گا۔ چاہے اس کے لیے ہمیں دنیا کے خلاف جانا پڑے۔ جھوٹے دعوے یا فوج کے خلاف کوئی دباو ہمیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکتا۔ اس جنگ کے بعد اسرائیل کو غزہ سے کبھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔
ایک اور میڈیا رپورٹ کے مطابق ہفتہ کو ریاض میں دنیا بھر کے مسلم ممالک کے رہنماوں کی ایک بڑی کانفرنس کے اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی اور مسئلہ فلسطین کے حل کا مطالبہ کیا گیا۔ ان رہنماوں نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے غزہ پر حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے تو اسرائیل کو تیل کی سپلائی روکنے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ کچھ ممالک نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات معطل کرنے کی تجویز پیش کی۔
اس اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم کے علاوہ عرب لیگ ممالک کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی تو فلسطینی قافیہ پہن کر پہنچے۔ اس میٹنگ میں ان کے علاوہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، شام کے صدر بشار الاسد،اردن کے بادشاہ کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس، انڈونیشیا کے صدر جوکو ویڈوڈو اور کرغزستان کے صدر سیڈی جاپاروف خاص طور سے شامل ہوئے۔ کانفرنس کا افتتاح سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کیا۔
ہندوستھان سماچار/
