
جنگ کے دوران حماس نے 25 یرغمالیوں کو کیا رہا، ریڈ کراس کے سپرد کئے گئے اسرائیلی یرغمالی
تل ابیب، 25 نومبر (ہ س)۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان 49 روز سے جاری جنگ میں جمعہ کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد حماس نے جنگ بندی کے بعد پہلی بار 25 مغویوں کو رہا کر دیا ہے۔ ان میں سے 13 اسرائیلی اور 12 تھائی شہری ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک نے ان حالات میں چار دن کے لیے جنگ روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کرے گا۔
تھائی لینڈ کے وزیر اعظم شریتھا تھاوسن نے 12 مغویوں کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے دوران فلسطینی جنگجووں کے ذریعہ اغوا کیے گئے تھائی لینڈ کے 12 یرغمالیوں کو جنگ بندی کے آغاز کے چند گھنٹوں کے اندر رہا کر دیا گیا۔ سفارتخانے کے اہلکار جلد ہی ان مغویوں تک پہنچنے والے ہیں۔ رہائی پانے والے ان مغویوں کے نام اور دیگر معلومات جلد منظر عام پر لائی جائیں گی۔
حماس نے جن لوگوں کو یرغمال بنایا ہے، ان میں صرف اسرائیلی شہری نہیں ہیں بلکہ کئی ممالک کے شہری بھی ہیں۔ یرغمال بنائے گئے زیادہ تر وہ ہیں جنہوں نے 7 اکتوبر کو ہونے والے میوزک فیسٹیول میں شرکت کی تھی۔ حماس نے یہیں سے شہریوں کو یرغمال بنایا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے علاوہ جن ممالک کے شہریوں کو حماس نے یرغمال بنایا ہے ان میں امریکا، تھائی لینڈ، جرمنی، ارجنٹائن، برطانیہ، فرانس، ہالینڈ اور پرتگال کے شہری بھی شامل ہیں۔
غزہ میں حماس کے حکام کے ترجمان نے بتایا کہ اسکول میں 200 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے کوئی بیان نہیں دیا۔ اسرائیل نے 7 اکتوبر کو اسرائیل میں ہونے والے حملے کے بعد حماس کو ختم کرنے کا عزم کیا تھا، جس میں اس کے جنگجووں نے 1200 افراد کو ہلاک اور 240 کو یرغمال بنا لیا تھا۔ حماس کے زیر اقتدار غزہ پٹی کے حکام نے بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد 12,300 تک پہنچ گئی ہے جن میں 5,000 بچے بھی شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
