تل ابیب،30اکتوبر(ہ س)۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان نے تصدیق کی کہ حکومت نے جنگ بندی کے مطالبات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’7 اکتوبر سے پہلے کی پوزیشن پر واپسی نہیں ہو سکتی‘۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں ہمیشہ کے لیے موجود رہنے کا ارادہ نہیں رکھتیں، لیکن ہم حماس کو ختم کرنے کے لیے مقاصد پورے ہونے تک وہیں رہیں گے۔جمعہ کی شام سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، اسرائیل نے زمینی اور سمندری راستے سے فضائی حملے اور گولہ باری تیز کر دی ہے۔غزہ میں مواصلاتی رابطہ بھی منقطع کردیا گیا ہے۔
اس سے قبل اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے غزہ کی پٹی کے اندر لڑنے والی اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہفتے اور اتوار کی درمیان رات کے دوران ہم نے اسرائیلی فوج کی غزہ میں داخلے میں اضافہ کیا۔سات اکتوبر کوحماس تحریک نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قصبوں اور بستیوں پر ایک غیر معمولی مسلح حملہ کیا تھا، جسے اس نے طوفان الاقصیٰ کا نام دیا تھا۔ اس کارروائی میں تقریباً 1400 اسرائیلی ہلاک، 3000 کے قریب زخمی اور 200 سے 250 کے درمیان لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر شدید حملے کیے جو اب بھی جاری ہیں، جس میں 8000 سے زائد فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔
ہندوستھان سماچار
