ٹوکیو، 25 دسمبر (ہ س)۔
جاپان میں سیاسی عطیات کے اسکینڈل کی گرمی حکمراں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے سب سے بڑے دھڑے تک پہنچ گئی ہے۔ جاپانی استغاثہ نے سابق وزیر اعظم آنجہانی شنزو آبے کے قریبی رہنماو¿ں سے پوچھ گچھ کی ہے۔
جاپان کے معروف اخبار جاپان ٹوڈے کے مطابق پیر کو جاپانی استغاثہ نے سابق اعلیٰ حکومتی ترجمان ہیروکازو ماتسونو اور آنجہانی سابق وزیر اعظم شنزو آبے کے قریبی دیگر رہنماو¿ں سے اس سکینڈل کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی ہے۔ ان تمام پر عطیات کے طور پر جمع کی گئی رقم میں کروڑوں کے غبن کرنے کا الزام ہے۔
اخبار کے مطابق، استغاثہ نے دھڑے کے چیئرمین ریو شیونویا، سابق جنرل سیکرٹری سویوشی تاکاگی اور ہاو¿س آف کونسلرز میں پارٹی کے سابق جنرل سیکرٹری ہیروشیگے سیکو سے بھی پوچھ گچھ کی۔ اس کے بعد حکمراں جماعت اپوزیشن کی جانب سے تنقید کی زد میں آگئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر اکیرا ناگتسوما نے حکمران جماعت کے بڑے رہنماو¿ں سے پوچھ گچھ کو بے مثال قرار دیا ہے۔
اخبار نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمراں جماعت ماتسونو، تاکاگی اور سیکو پر پانچ سال سے 2022 کے دوران ایک کروڑ یون سے زائد کا غبن کرنے کا الزام ہے۔ اس عرصے میں تقریباً 500 ملین این جمع کیے گئے۔ استغاثہ ان رہنماو¿ں کے بینک ٹرانزیکشنز کی بھی چھان بین کر رہے ہیں۔ الزامات ثابت ہونے پر ان رہنماو¿ں کو پانچ سال تک قید یا دس لاکھ این تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے اس پورے واقعے پر تبصرہ کیا ہے – ‘عوام میں عدم اعتماد پیدا کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت سیاسی استحکام کے لیے مخصوص اقدامات کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
