نئی دہلی، 04 نومبر (ہ س)۔ ترکی نے ہفتے کے روز اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترک وزارت خارجہ کے مطابق سفیر ساکر اوزکان تورولنر کو غزہ میں شہریوں کے خلاف اسرائیل کے حملوں اور جنگ بندی کو قبول کرنے سے انکار کے باعث پیش آنے والے انسانی المیے کے پیش نظر مشاورت کے لیے واپس بلایا جا رہا ہے۔
ترک میڈیا نے ہفتے کے روز صدر رجب طیب اردگان کے حوالے سے کہا کہ وہ غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کی وجہ سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطے منقطع کر رہے ہیں۔ ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔
اردگان نے کہا کہ نیتن یاہو اب وہ شخص نہیں رہے جس سے ہم بات کر سکیں۔ ہم نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ اردگان کے تبصرے ایک ہفتے کے بعد سامنے آئے ہیں جب اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل اور حماس جنگ کے بارے میں ترکی کے بڑھتے ہوئے سخت بیانات کی وجہ سے انقرہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔
اردگان نے کہا کہ نیتن یاہو اب وہ شخص نہیں رہے جس سے ہم بات کر سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل حماس جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کو ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کا حصہ ہونا چاہیے۔ ترکی کبھی بھی فلسطینیوں کو بتدریج تباہ کرنے کی کوششوں کی حمایت نہیں کرے گا۔
ہندوستھان سماچار
