بنگلہ دیش : ٹرین میں آگ لگنے سے 4 مسافر ہلاک، پولیس کو سازش کا اندیشہ
ڈھاکہ، 6 جنوری (ہ س)۔ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں جمعہ کی دیر رات ٹرین میں آگ لگنے سے چار افراد ہلاک ہو گئے۔ حادثے میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ آتش زنی کا معاملہ کسی سازش کے تحت کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ملک میں ہونے والے عام انتخابات سے دو روز قبل پیش آیا ہے اور ملک کی اہم اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔
ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق دارالحکومت کے علاقے گوپی باغ میں ٹرین میں آگ لگنے سے 4 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسسٹنٹ فائر سروس آفیسر رقیب الحسن کے مطابق جمعہ کی رات فائر بریگیڈ کی سات گاڑیاں موقع پر پہنچیں اور آگ پر قابو پایا۔ آگ مسافر ٹرین بیناپول ایکسپریس کے چار ڈبوں تک پھیل گئی۔ یہ ٹرین ہندوستانی سرحد کے قریب ساحلی شہر بیناپول سے آرہی تھی۔ آگ مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے کے قریب اس وقت لگی جب ٹرین ڈھاکہ ریلوے اسٹیشن کی طرف بڑھ رہی تھی۔ حادثے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ ریلوے کے مطابق ٹرین میں 292 مسافر سوار تھے۔
پولیس کو شبہ ہے کہ ٹرین کو ایک سازش کے تحت آگ لگائی گئی۔ ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس (ڈی ایم پی) کے ایڈیشنل کمشنر محی الدین کے مطابق یہ ایک منصوبہ بند حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ حملہ آور کون ہیں لیکن وہ اچھی طرح سے منصوبہ بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور کی شناخت کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس قسم کا واقعہ لوگوں اور پولیس افسران کو خوفزدہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا۔
بنگلہ دیش میں 7 جنوری کو عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ تاہم حزب اختلاف کی مرکزی جماعت بی این پی یہ کہتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کر رہی ہے کہ شیخ حسینہ کے وزیر اعظم رہنے تک منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے۔ اپوزیشن جماعتیں غیر جانبدار نگراں حکومت کے تحت عام انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہیں جب کہ حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ ملکی آئین میں ایسی کوئی شق نہیں ہے۔ ملک میں اتوار سات جنوری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے غیر ملکی مبصرین بنگلہ دیش پہنچ گئے ہیں، جن میں بھارت کے الیکشن کمیشن کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
