بغداد/ غزہ، 08 دسمبر (ہ س)۔ عراق کے دارالحکومت بغداد میں آج (جمعہ) صبح تقریباً 4 بجے کے قریب امریکی سفارت خانے کے قریب ایک زبردست دھماکہ ہوا۔ اسرائیل کے معروف اخبار دی یروشلم پوسٹ کے مطابق دھماکے کے بعد کافی دیر تک وارننگ سائرن بجتے رہے۔ ادھر غزہ پٹی میں جنگ کے دوران دو اسرائیلی فوجی مارے گئے۔ اس کی تصدیق اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کی ہے۔
دی یروشلم پوسٹ کے مطابق سفارت خانے نے دھماکے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔ فی الحال کسی مسلح گروپ نے امریکی سفارت خانے کے قریب ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اکتوبر کے وسط سے عراق اور شام میں فوجی اڈوں اور امریکی افواج کو 70 سے زائد حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کی ذمہ داری عراقی شیعہ مسلم مسلح گروپ کی ایک تنظیم نے قبول کی ہے۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق،آئی ڈی ایف نے کل (جمعرات) غزہ پٹی میں جنگ میں ہلاک ہونے والے دو فوجیوں کے نام ظاہر کیے ہیں۔ اس بارے میں ان کے اہل خانہ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ فلسطینی جنگجو تنظیم حماس کے ساتھ جنگ چھڑی جنگ تبریاس کے 41 سالہ میجر کوبی دواش اور یروشلم کے 28 سالہ میجر ایال میر برکووٹز شمالی غزہ پٹی میںکے دوران شہید ہوگئے۔
اخبار نے کہاکہ اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (اے ڈی ایل ) کے ایک ربینیک فیلو اور ہارورڈ ڈیواینٹی اسکول کے ویزٹنگ اسکالرربی ڈیوڈ وولپو نے جمعہ کی صبح ایکس پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ انہوں نے ہارورڈ میں یہود مخالف مشاورتی کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
اسرائیل کے دوسرے معروف اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق فلسطینی شاعر رفعت العرعیر غزہ پٹی میں جنگ کے دوران انتقال کر گئے۔ شاعر مصعب ابو طحہ نے فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی پوسٹ میں یہ معلومات دیتے ہوئے اپنا دکھ شیئر کیا ہے۔ العر عیر شمالی غزہ میں مقیم تھے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل نے حماس پر’انسانی ہمدردی کے علاقوں‘ سے راکٹ فائر کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ حماس کے جنگجووں نے رفح کیمپوں سے 14 راکٹ فائر کیے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ غزہ پٹی میں جنگ کا آج 63 واں دن ہے۔ اسرائیلی سیکورٹی فورسز اور حماس کے جنگجووں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
