لندن،یکم ستمبر(ہ س)۔برطانیہ نے آئندہ ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اپنے منصوبے ترک نہیں کیے۔ یہ بات برطانوی اخبار گارڈیئن نے ایک سرکاری اہل کار کے حوالے سے بتائی۔ اہل کار کا کہنا ہے کہ ہم اس حوالے سے تمام پہلوو¿ں کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم فی الحال ہمارا رخ اسی جانب ہے کہ ستمبر میں (فلسطینی ریاست) تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا جائے۔امید ہے کہ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی یکم ستمبر کو پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں (ہاو¿س آف کامنز) میں اپنے خطاب کے دوران اس موقف کو با ضابطہ طور پر پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ29 جولائی کو وزیر اعظم کیئر اسٹامر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں انسانی امداد کی رسائی روکنے اور اپنی فوجی کارروائی ختم کرنے سے انکار کیا، تو برطانیہ 9 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے پہلے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔ادھر اسرائیل اس امکان پر غور کر رہا ہے کہ اگر فرانس اور دیگر ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا، تو وہ اس کے جواب میں مقبوضہ مغربی کنارے کو اپنے ساتھ ضم کر لے۔ مبصرین کے مطابق فی الحال یہ واضح نہیں کہ ایسا کوئی اقدام کہاں اور کیسے نافذ ہو گا۔ آیا یہ صرف اسرائیلی بستیوں تک محدود رہے گا یا ان میں سے کچھ تک، یا پھر مغربی کنارے کے مخصوص علاقوں جیسے وادی اردن تک … اور کیا اس پر بحث کے بعد واقعی عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ماہرین کے خیال میں ایسی کسی پیش رفت کے لیے طویل قانون سازی درکار ہوگی اور اس سے وسیع پیمانے پر عالمی رد عمل سامنے آئے گا۔
خیال رہے کہ 2020 میں بنیامین نیتن یاہو نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اسرائیل یہودی بستیوں اور وادی اردن کو ضم کرے گا، مگر یہ اعلان بعد میں مو¿خر کر دیا گیا۔
امریکہ نے جمعے کو اعلان کیا کہ صدر محمود عباس کو نیویارک جانے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جہاں کئی مغربی اتحادی ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔غزہ پر جنگ کی وجہ سے اسرائیل کو بڑھتی ہوئی عالمی تنقید کا سامنا ہے۔ اس نے فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے ان اعلانات پر بھی سخت ناراضی ظاہر کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے آئندہ اجلاس کے دوران با ضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے۔اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت نے 2024 میں فیصلہ دیا تھا کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ، جن میں مغربی کنارہ اور وہاں کی یہودی بستیاں بھی شامل ہیں، یہ غیر قانونی ہے جسے فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ تاہم اسرائیل اس موقف کو رد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ علاقے متنازع ہیں۔ البتہ اقوام متحدہ اور دنیا کی اکثریت انھیں مقبوضہ مانتی ہے۔اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس اور جولان کی پہاڑیوں کو کئی دہائیاں پہلے اپنے ساتھ ملا لیا تھا لیکن اس انضمام کو آج تک عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔کئی برسوں سے اسرائیلی حکومتی اتحاد کے بعض ارکان با ضابطہ طور پر مغربی کنارے کے حصوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کے مطالبے کرتے آئے ہیں، اور اسرائیل اس کی وجہ وہاں کے … بائبل سے جڑے تاریخی روابط کو قرار دیتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
