واشنگٹن،26اکتوبر(ہ س)۔سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے ہفتے کے روز ایک برطانوی ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ دوبارہ صدر بننے کے لیے ممکنہ طور پر انتخاب لڑ سکتی ہیں۔ہیرس نے 2024 کے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کے طور پر جو بائیڈن کی جگہ لی لیکن انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وائٹ ہاو¿س کے لیے دوسری بار کوشش کرنے کا انہوں نے تاحال فیصلہ نہیں کیا۔لیکن 61 سالہ خاتون سیاستدان نے اصرار کیا کہ امریکی سیاست میں ابھی ان کا وقت ’ختم نہیں‘ ہوا اور یہ کہ ان کی بھتیجی کی نوجوان بیٹیاں اوول آفس میں یقیناً ایک خاتون صدر کو دیکھیں گی۔
میں نے اپنا پورا کیریئر خدمت میں گذارا ہے اور یہ میری فطرت میں ہے اور خدمت کرنے کے بہت سے طریقے ہیں، ہیرس نے اتوار کو مکمل نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا۔میں نے تاحال یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ جو میں ابھی کر رہی ہوں، اس سے آگے اپنے مستقبل میں کیا کروں گی۔یہ تبصرے اب تک مضبوط ترین اشارہ ہیں کہ شاید ہیرس 2028 کے انتخابات کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار بننے کی کوشش کریں۔گذشتہ مہینے ان کی یادداشت جاری ہونے کے بعد یہ انٹرویو ہوا ہے جس میں انہوں نے استدلال کیا تھا کہ بائیڈن کو دوسری مدت کے لیے صدر بننے دینا غیر ذمہ دارانہ عمل تھا۔اس نے یہ الزام بھی لگایا کہ نائب صدر ہونے کے دوران بائیڈن کی وائٹ ہاو¿س کی ٹیم ان کی معاونت کرنے میں ناکام رہی اور بعض اوقات وہ بجا طور پر ان کی راہ میں حائل ہوئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
