واشنگٹن،13اگست(ہ س)۔منگل کے روز ایک امریکی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (یو سی ایل اے) کے لیے وفاقی مالی اعانت کا ایک حصہ بحال کرنے کا حکم دیا جو انتظامیہ نے حال ہی میں معطل کر دی تھی۔سان فرانسسکو میں امریکی ڈسٹرکٹ جج ریٹا لِن نے فیصلہ دیا کہ گرانٹ فنڈنگ کی معطلی سے جون کے ابتدائی حکمِ امتناعی کی خلاف ورزی ہوئی جس کے تحت انہوں نے نیشنل سائنس فاو¿نڈیشن (این ایس ایف) کو درجنوں گرانٹس بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ گرانٹس فاو¿نڈیشن نے ختم کر دی تھیں۔اس حکم میں ایجنسی کو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سسٹم میں دیگر گرانٹس منسوخ کرنے سے روک دیا گیا تھا اور یو سی ایل اے اسی کا ایک حصہ ہے۔
ڈیموکریٹک سابق صدر جو بائیڈن کی مقرر کردہ جج لِن نے لکھا، این ایس ایف کے اقدامات ابتدائی حکم نامے کی خلاف ورزی ہیں۔ وائٹ ہاو¿س اور یونیورسٹی نے اس فیصلے پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔یو سی ایل اے نے کہا کہ گذشتہ ہفتے حکومت نے 584 ملین ڈالر کی فنڈنگ منجمد کر دی۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جج نے منجمد فنڈز میں سے کتنی رقم بحال کرنے کا حکم دیا۔کیلیفورنیا یونیورسٹی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تصفیے کی پیشکش کا جائزہ لے رہی تھی جس میں یونیورسٹی ایک بلین ڈالر ادا کرے گی۔ اس نے کہا کہ اتنی بڑی ادائیگی ادارے کو تباہ کر دے گی۔حکومت کا الزام ہے کہ یو سی ایل اے سمیت یونیورسٹیوں نے احتجاج کے دوران یہود دشمنی کی اجازت دی۔
ماہرین نے ریپبلکن صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر علمی حقوق کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹک گورنر گیون نیوزوم نے ٹرمپ انتظامیہ کی تصفیے کی پیشکش کو بھتہ خوری کی ایک شکل قرار دیا۔گذشتہ مہینے یو سی ایل اے نے یہود دشمنی کے الزام پر مبنی مقدمہ نمٹانے کے لیے چھے ملین ڈالر سے زیادہ ادا کرنے پر اتفاق کیا۔ 2024 میں فلسطینی حامی مظاہرین پر پرتشدد ہجومی حملے پر بھی یونیورسٹی کے خلاف اس سال ایک مقدمہ دائر کیا گیا۔حقوق کے حامیوں نے شرقِ اوسط تنازعات کے باعث یہود دشمنی، عرب مخالف تعصب اور اسلامو فوبیا میں اضافہ نوٹ کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اسلامو فوبیا پر مساوی تحقیقات کا اعلان نہیں کیا۔حکومت نے کولمبیا یونیورسٹی کے ساتھ اپنی تحقیقات طے کر لی ہیں جس نے 220 ملین ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے اور براو¿ن یونیورسٹی نے کہا ہے کہ وہ 50 ملین ڈالر ادا کرے گی۔ دونوں نے حکومت کے بعض مطالبات تسلیم کر لیے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ساتھ تصفیہ مذاکرات جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
