اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ جنگ بندی کی قرارداد منظور، بھارت سمیت 153 ممالک نے حق میں ووٹ دیا
اقوام متحدہ، 13 دسمبر (ہ س)۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے ہنگامی اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد منظور کر لی گئی۔ بھارت سمیت 153 ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ 10 ارکان نے مخالفت کی۔ 23 ارکان اس عمل سے غیر حاضر رہے۔ یہ معلومات اقوام متحدہ کی نیوز سروس نے اپنے ایکس ہینڈل اور ویب سائٹ پر شیئر کی ہے۔
اقوام متحدہ کی نیوز سروس کے مطابق اس میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور تمام مغویوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔ قرارداد میں جنرل اسمبلی کے اس مطالبے کا بھی اعادہ کیا گیا کہ تمام فریقین بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کریں۔ اس میں بین الاقوامی انسانی قانون بھی شامل ہے۔ یہ قانون خاص طور پر شہریوں کے تحفظ سے متعلق ہے۔ قرارداد سے قبل رکن ممالک نے دو ترامیم کے حق میں ووٹ دیا جن میں فلسطینی جنگجو تنظیم حماس کا خاص طورپر حوالہ دیا گیا تھا۔
یو این جی اے کے سربراہ فرانسس نے کہا کہ غزہ میں عام شہریوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ فرانسس نے غزہ میں فوری جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ جنگ بندی کی تجویز مصری سفیر عبدالخالق محمود نے پیش کی۔ جنگ بندی کی قرارداد کے خلاف ووٹ دینے والے ممالک میں امریکہ، آسٹریا، جمہوریہ چیک، گواٹیمالا، اسرائیل، لائبیریا، مائیکرونیشیا، ناورو، پاپوا نیو گنی اور پراگوا شامل ہیں۔
اقوام متحدہ میں ہندوستان کی مستقل مندوب روچیرا کمبوج نے کہا کہ ہندوستان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ جنرل اسمبلی میں زیر بحث صورتحال کی کئی جہتیں ہیں۔ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ ہوا اور بہت سے لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا جو کہ تشویشناک ہے۔ غزہ میں ایک بہت بڑا انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ عام شہری بڑے پیمانے پر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ مسئلہ ہر حال میں بین الاقوامی انسانی قانون کی تعمیل کرنا ہے۔ ہندوستان اس وقت خطے کو درپیش بہت سے چیلنجوں سے نمٹنے کی مشترکہ کوشش میں بین الاقوامی برادری کے اتحاد کا خیرمقدم کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ امریکہ جنگ بندی کی تجویز سے اتفاق نہیں کرتا۔ امریکی ایلچی نے براہ راست حماس کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اسرائیلی سفیر گیلاد اردن نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ روکنے سے حماس کو ہی فائدہ ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
