دمشق،20جنوری(ہ س)۔
حالیہ دنوں میں لبنان اور شام میں سرکردہ مزاحمتی رہنماوں کے خلاف پے در پے قاتلانہ حملوں کے جلو میں ہفتے کے روز دمشق ایک بار پھر زوردار دھماکوں سے لرز اٹھا۔انسانی حقوق کی رصدگاہ کے سربراہ نے بتایا کہ ہفتے کی صبح شام کا دارلحکومت دمشق زوردار دھماکوں سے لرز اٹھا، جس کے بعد دھماکے کی جگہ سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
شامی خبر رساں ایجنسی ’سانا“ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے کا نشانہ دارلحکومت کے وسط میں ایک رہائشی عمارت تھی۔ حملے کا نشانہ المزہ کا علاقہ تھا جہاں زیادہ تر مغربی طرز کے ویلاز موجود ہیں۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق دھماکے کی آواز دارلحکومت میں دور دور تک سنی گئی، حملے کی تفصیل جاننے کے لئے تحقیقات جاری ہیں۔انسانی حقوق کی رصدگاہ کے سربراہ نے دھماکے میں پانچ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔العربیہ نیوز چینل پر تبصرہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ دھماکہ دمشق کے اس علاقے میں ہوا جہاں پر تحریک جہاد اور حزب اللہ کی قیادت رہائش پذیر ہوتی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک عہدیدار بھی کام آیا۔
ہندوستھان سماچار
